امریکہ کے ساتھ معاہدہ منجمد فنڈز کی بحالی سے مشروط ہے: مشیر مجتبیٰ خامنہ ای

منجمد ایرانی فنڈز کا معاملہ دونوں فریقوں کے درمیان سب سے نمایاں متنازع مسائل میں سے ایک ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران اور واشنګٹن کے درمیان ممکنہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی کی منظوری پر منحصر ہے۔ سی این این نے محسن رضائی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان کوئی بھی افہام و تفہیم ان محصور فنڈز کی بحالی سے مشروط ہے جو امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کے نتیجے میں بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی طرف اشارہ ہے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان متعدد تصفیہ طلب فائلوں کے حوالے سے بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور خطے میں مہینوں کے سیاسی اور فوجی تناؤ کے بعد دونوں فریقوں کے نئی مفاہمتوں کے قریب پہنچنے کے بارے میں بات چیت بڑھ رہی ہے۔

حساس معاملہ

منجمد ایرانی فنڈز کا معاملہ دونوں فریقوں کے درمیان سب سے نمایاں متنازع مسائل میں سے ایک ہے کیونکہ تہران برسوں سے مختلف ملکوں میں محصور تیل کی آمدنی اور مالیاتی اثاثوں سے اربوں ڈالر جاری کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن پابندیوں میں کسی بھی نرمی یا فنڈز کی رہائی کو کئی معاملات میں ایرانی وعدوں سے جوڑ دیتا ہے۔

یہ شرط ایک ایسے وقت میں سامنے رکھی گئی ہے جب امریکہ ایران پر اقتصادی دباؤ کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کو نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے جن میں ایرانی توانائی کی تجارت اور مالیاتی شعبے سے وابستہ نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس یا امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے محسن رضائی کے بیانات یا منجمد اثاثوں کے معاملے کے حوالے سے اب تک کوئی سرکاری تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں