ارنڈی کے تیل کے صحت بخش فائدے، مصری ملکہ کلوپیٹرا بھی استعمال کرتی تھیں
ارنڈی کا تیل جو ایک گاڑھا نباتاتی تیل ہے، ارنڈی کے پودے کے بیجوں سے نکالا جاتا ہے۔ آج اس کی زیادہ تر پیداوار بھارت میں ہوتی ہے۔ یہ اب بھی قبض کے علاج اور جلد و بالوں کی نگہداشت کی مصنوعات میں استعمال ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ دیگر مصنوعات کے ساتھ ساتھ مشین کے تیل (انجن آئل) میں بھی ایک جز کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) اسے قبض کے علاج کے لیے محفوظ قرار دیتی ہے، تاہم محققین اب بھی اس کے ممکنہ دیگر صحت بخش فوائد کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اس کا استعمال قدیم مصر تک جاتا ہے، جہاں غالب امکان ہے کہ اسے چراغ جلانے کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، ساتھ ہی طبی اور زیبائشی مقصد کے لیے بھی اس کا استعمال ہوتا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کلوپیٹرا اسے اپنی آنکھوں کی سفیدی زیادہ نمایاں کرنے کے لیے استعمال کرتی تھیں۔
ارنڈی کا تیل کھانے کے قابل نہیں ہوتا کیونکہ بد ذائقہ ہوتا ہے۔ تاہم WebMD کے مطابق کچھ لوگ اسے طبی مقاصد کے لیے معمولی مقدار میں پیتے ہیں۔اس کے ممکنہ صحت بخش فوائد میں شامل ہیں :
قبض کا علاج
ارنڈی کے تیل کا وہ واحد طبی استعمال جسے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے منظور کیا ہے، وہ اسے قدرتی مُلین کے طور پر عارضی قبض دور کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔
ارنڈی کے تیل میں موجود رِیسی نولیئک ایسڈ آنتوں کے خاص ریسپٹرز سے جڑ جاتا ہے، جس سے آنتوں کی عضلات سکڑتی ہیں اور فضلہ بڑی آنت کے راستے آگے بڑھتا ہے۔
ارنڈی کا تیل بعض اوقات کولونوسکوپی جیسے طبی اقدامات سے پہلے آنتوں کی صفائی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، مگر ڈاکٹر اس مقصد کے لیے اکثر دوسرے ملین تجویز کرتے ہیں جو زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔
قبض کے مستقل علاج کے لیے اس تیل کا استعمال نہ کریں، کیونکہ لمبے عرصے تک استعمال سے پیٹ میں مروڑ، گیس اور اپھارہ (بلوٹنگ) جیسی ضمنی اثرات ہو سکتے ہیں۔
سوزش مخالف اثرات
ارنڈی کے تیل میں موجود رِیسی نولیئک ایسڈ سوجن کم کرنے اور درد میں آرام دینے میں مددگار سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب اسے جلد پر لگایا جائے۔
زخم بھرنے کی رفتار بڑھانا
ارنڈی کے تیل میں بیکٹیریا اور جراثیم کے خلاف خصوصیات ہوتی ہیں، جو اسے زخم بھرنے کے عمل میں معاون بناتی ہیں، خاص طور پر جب اسے کسی اور دوا یا اجزا کے ساتھ ملایا جائے۔
یہ تیل زخم کو نمی فراہم کرتا ہے، جس سے انفیکشن کا خطرہ کم ہو سکتا ہے، جبکہ رِیسی نولیئک ایسڈ سوزش کو بھی کم کرتا ہے۔
چھوٹے زخموں یا معمولی جلنے پر گھر میں ارنڈی کا تیل استعمال نہ کریں۔ اسے زخموں کی دیکھ بھال کے لیے صرف کلینکس یا اسپتالوں میں ہی لگایا جانا چاہیے۔
جلد کی نمی بڑھانے والے اثرات
چونکہ ارنڈی کا تیل فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے، اس لیے یہ جلد کو نمی فراہم کرتا ہے۔ یہ کئی کاسمیٹک مصنوعات میں پایا جاتا ہے، اور اسے بغیر خوشبو اور رنگ کے اپنی اصل شکل میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حساس جلد والے افراد اسے کسی اور تیل میں ملا کر لگائیں۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ارنڈی کے تیل کی اینٹی بیکٹیریا اور موئسچرائزنگ خصوصیات مہاسوں (ایکنی) میں مدد کرتی ہیں، مگر اس بارے میں کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں۔
بالوں کی نشو ونما
ارنڈی کے تیل کو اکثر خشک کھوپڑی، بالوں کی بڑھوتری اور خشکی کے علاج کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔ یہ کھوپڑی اور بالوں کو نمی ضرور دیتا ہے، مگر سائنسی طور پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ ڈینڈرف کو ٹھیک کرتا ہے۔
حقیقت میں کچھ لوگوں میں ارنڈی کا تیل بالوں کو اس حد تک چپکا اور الجھا سکتا ہے کہ بال کاٹنے تک نوبت آ سکتی ہے۔