ڈیجیٹل اسکرینوں کا بڑھتا استعمال سعودی معاشرے میں آنکھوں کی خشکی میں اضافہ کرنے لگا
ایک حالیہ سعودی قومی تحقیق میں مملکت میں آنکھوں کی خشکی (جفافِ چشم) کی شرح میں نمایاں اضافے کا انکشاف ہوا ہے، جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ڈیجیٹل آلات کا کثرت سے استعمال علامات کے بگڑنے کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین میں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مرض جدید دور میں آنکھوں کی صحت کو درپیش بڑے چیلنجز میں شامل ہو گیا ہے۔
وزارتِ صحت میں جینیاتی امراض کی کنسلٹنٹ ڈاکٹر مریم العیسیٰ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ اس تحقیق کا عنوان تھا:واضح نظر کی جانب: سعودی معاشرے میں آنکھوں کی خشکی کے مرض کی وبائی صورتِ حال اور کلینیکل علامات کے انداز۔
یہ تحقیق ایک قومی کراس سیکشنل طریقۂ کار پر مبنی تھی، جس میں مملکت کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 1009 افراد کو شامل کیا گیا۔ تحقیق میں معیاری تشخیصی آلات استعمال کیے گئے اور مرض سے جڑے طرزِ عمل اور آبادیاتی عوامل کا گہرائی سے تجزیہ کیا گیا۔
ڈیجیٹل استعمال خطرے کی سب سے بڑی وجہ
ڈاکٹر مریم العیسیٰ کے مطابق نتائج سے یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ ڈیجیٹل آلات کے طویل استعمال اور آنکھوں کی خشکی کی علامات کی شدت کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے، جو آنکھوں کی صحت پر تیز رفتار ڈیجیٹل تبدیلیوں کے اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جلن اور خشکی سے متعلق علامات سب سے زیادہ نمایاں رہیں، جو بصری عادات میں تبدیلی کے آنکھوں کی خشکی کے پھیلاؤ میں مرکزی کردار کو ظاہر کرتی ہیں۔
تحقیق میں صنفی فرق بھی واضح طور پر سامنے آیا، جہاں خواتین میں مردوں کے مقابلے میں جلن اور خشکی کی سطح زیادہ پائی گئی۔ اسی طرح 18 سے 34 سال کی عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر نظر آئے، جن پر تعلیم اور ملازمت کے تقاضوں کے باعث طویل اسکرین استعمال کا دباؤ ہوتا ہے۔
کام کی جگہ کا ماحول اور علامات میں اضافہ
نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھلے ماحول میں کام کرنے والے افراد، بند دفاتر میں کام کرنے والوں کے مقابلے میں، آنکھوں کی زیادہ تکلیف کا شکار ہوتے ہیں۔
مزید برآں شماریاتی تجزیے سے ازدواجی حیثیت، ملازمت کی نوعیت اور تعلیمی سطح کے آنکھوں کی خشکی کی شدت پر اثرات بھی سامنے آئے، جو اس مرض سے جڑے عوامل کی پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ نتائج مملکت کے شعبۂ صحتِ عامہ کے لیے ایک اہم اشارہ ہیں، کیونکہ اس کے تحت بصری طور پر زیادہ آرام دہ کام کے ماحول کو فروغ دینے، ڈیجیٹل آلات کے طویل استعمال کے خطرات سے متعلق آگاہی بڑھانے، مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیصی طریقے متعارف کرانے اور دائمی امراض کے نگہداشت پروگراموں میں آنکھوں کی سطح کی صحت کے جائزے کو شامل کرنے کی فوری ضرورت ہے۔
کثیر شعبہ جاتی قومی تحقیق
ڈاکٹر مریم العیسیٰ نے وضاحت کی کہ یہ تحقیق باہمی تحقیقی اشتراک کی ایک نمایاں مثال ہے، جس میں کلینیکل آئی کیئر، وبائیات اور آبادیاتی صحت کے ماہرین نے حصہ لیا، جبکہ سعودی اور بین الاقوامی محققین کی ایک منتخب ٹیم نے اس میں تعاون کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تحقیقی منصوبہ سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، جس کا محور صحت کی روک تھام اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔