ہر سال رمضان المبارک کا مہینہ قریب آتے ہی مصر کے مختلف صوبوں میں گلیوں اور گھروں کے نقشے بدل جاتے ہیں اور اس ماہ صیام کی آمد کا اعلان کرتے ہیں جس کا لاکھوں لوگ بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ گلیاں روشن فانوسوں سے سج جاتی ہیں، بالکونیوں کے درمیان رنگ برنگی جھنڈیاں لٹکائی جاتی ہیں اور بازار اس مقدس مہینے کی تیاریوں سے بھر جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو ہر سال دہرایا جاتا ہے لیکن اس کی چمک اور گرمجوشی کبھی کم نہیں ہوتی۔
مصر کی پہچان رمضان کا وہ منفرد ماحول ہے جو صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہونے والی عادات و روایات سے بنا ہے جہاں روحانیت عوامی خوشی کے ساتھ مل جاتی ہے۔ مصر میں روزوں کا مہینہ محض ایک عبادت نہیں، بلکہ ایک مکمل معاشرتی کیفیت ہے جو باہمی تعاون، موائد الرحمن کے نام سے دستر خوانوں، افطار کی توپ اور خاندانی محفلوں میں نظر آتی ہے۔ یہ کیفیت اس مہینے کو ایک خاص رنگ دیتی ہے اور اسے سال کے باقی مہینوں سے ممتاز اور سب کے لیے ایک منتظر موقع بنا دیتی ہے۔
مصر میں ماحول منفرد کیوں؟
اسلامی آثارِ قدیمہ کے ماہر آثار قدیمہ سامح الزھار نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصر میں رمضان المبارک کے ماحول کی انفرادیت مصریوں کے 1000 سال سے زائد عرصے پر محیط رمضان کے گہرے فہم سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصریوں نے اس ماہ مقدس کو صرف ایک مذہبی فریضے یا عبادتی رسم کے طور پر نہیں لیا بلکہ اسے ایک تہذیبی جہت اور خاص شناخت دی جس نے اس کے مختلف خدوخال بنائے۔
سامح الزھار نے وضاحت کی کہ مصریوں نے اپنی طویل تاریخ میں روزے کے سادہ اور واضح مفہوم سے آگے بڑھ کر رمضان کو ایک جشن کے مہینے میں بدل دیا جو بخشش اور رحمت کا مہینہ ہونے کے ناطے روحانیت اور مسرت کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مہینے میں خوشی کے مظاہر کا شامل کرنا، جیسے فانوس روشن کرنا، گلیوں کو سجانا اور مٹھائیاں تقسیم کرنا، کوئی عارضی بات نہیں ہے بلکہ یہ دینِ اسلام کے جوہر کے بارے میں ایک خاص مصری فہم کی عکاسی کرتا ہے۔ مصریوں کے ہاں یہ مہینہ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کے لیے آیا تھا، لہٰذا روشنی فانوس، چراغاں اور جشن کی صورت میں علامتی طور پر موجود تھی۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ اس فہم کا ایک نمایاں پہلو سماجی تعاون کے تصور کو راسخ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "موائد الرحمن" کا مظہر مصر میں بہت پہلے شروع ہوا اور عرب اسلامی فتح سے لے کر جدید دور تک صدیوں میں ارتقاء پاتے ہوئے سماجی تعاون کا ایک اہم نمونہ بن گیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دسترخوان محض روزہ داروں کو دیا جانے والا کھانا نہیں تھے بلکہ ایک سماجی اور انسانی پیغام تھا جس میں مسلمان اور غیر مسلم سب شریک ہوتے تھے۔ یہ دسترخوان مضبوط مصری معاشرے کی فطرت کی عکاسی کرتے ہیں۔ سامح الزھار نے بتایا کہ مصر میں رمضان کا مہینہ ایک مذہبی علامت سے بڑھ کر ایک وسیع سماجی اور ثقافتی پس منظر والی تقریب میں بدل گیا ہے۔ اس نے دس صدیوں سے زائد عرصے سے اپنی شناخت برقرار رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے فاطمی دور کے آغاز سے رمضان کی راتوں میں گلیوں کو روشن کرنے کی تاریخ کا حوالہ دیا جب قاہرہ کو اس مقدس مہینے کے استقبال میں روشن کیا جاتا تھا۔ اس روش نے روشنی اور فانوس کی روایت کو پختہ کیا جو بعد میں مصر میں رمضان کی اہم ترین علامتوں میں سے ایک بن گئی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس مہینے سے وابستہ بہت سی سادہ علامتیں، جیسے روایتی مٹھائیوں کی شکلیں، ان کی جڑیں ان عناصر میں ملتی ہیں جو قرون وسطیٰ میں روزمرہ کی زندگی میں استعمال ہوتے تھے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے خاص رمضانی معنی اختیار کر لیے۔
سامح الزھار نے اپنی بات کا اختتام اس یقین کے ساتھ کیا کہ مصر میں رمضان کی موجودگی اسلامی دنیا کے کسی بھی دوسرے حصے سے مختلف ہے کیونکہ یہ مذہبی پہلو، تاریخی وسعت اور ورثے کا مجموعہ ہے۔ یہ مختلف انداز مصر میں رمضان المبارک کو ایک مکمل ثقافتی تجربہ بناتا ہے جسے نسلیں وراثت میں پاتی ہیں اور وقت بدلنے کے باوجود اس کی خصوصیت کو برقرار رکھتی ہیں۔
دوسری جانب "بنی سویف یونیورسٹی" میں اسلامی تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد ابراہیم نے بتایا کہ مصر میں رمضان المبارک ایک تاریخی انفرادیت رکھتا ہے جو صدیوں پرانی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مصری ایک ایسا منفرد رمضانی تجربہ تشکیل دینے میں کامیاب رہے ہیں جو عوامی مذہبیت اور تہذیبی وسعت کا امتزاج ہے۔ انہوں نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ مصر میں رمضان کا جشن جدید دور کی پیداوار نہیں ہے بلکہ یہ ملک میں اسلام کی آمد کے وقت سے ہی راسخ ہے۔ فاطمی، مملوک اور عثمانی ادوار کے دوران اس رجحان میں نمایاں ترقی ہوئی۔ ان ادوار میں یہ مقدس مہینہ سرکاری اور عوامی مظاہر سے جڑ گیا جس نے مصری وجدان میں اس کے مقام کی عکاسی کی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ فاطمی ریاست نے گلیوں کو روشن کرنے، مہینے کے استقبال کے لیے جلوس نکالنے اور غریبوں کو کھانا کھلانے کے اہتمام کے ذریعے رمضان کو جشن کا رنگ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ فاطمی ریاست نے ان روایات کو راسخ کرنے میں مدد دی جو آج تک قائم ہیں۔ ان روایات میں فانوس اور موائد الرحمن اب تک جاری ہیں۔ موائد الرحمن کا معنی الرحمن کے دستر خوان ہے۔
ڈاکٹر محمد ابراہیم نے کہا کہ مصریوں نے تاریخ بھر میں عبادت اور سماجی زندگی کو الگ نہیں کیا لہٰذا رمضان علم و ذکر کا موسم ہونے کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی، باہمی ہمدردی اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان تعاون کا موقع بھی تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ جدید دور تک ان مظاہر کا تسلسل مصری ثقافتی شناخت کی طاقت اور نظاموں اور زمانوں کی تبدیلی کے باوجود اپنے رمضانی ورثے کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصر میں رمضان المبارک اب صرف ایک مذہبی موقع نہیں رہا بلکہ ایک تہذیبی واقعہ بن چکا ہے جو مصری معاشرے کی روح اور اس کی طویل تاریخ کا اظہار کرتا ہے۔