لمبے عرصے تک جاری تنہائی… نفسیاتی نقطہ نظر سے تجزیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی ماہرینِ صحت پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ لمبے عرصے تک تنہائی ایک عوامی صحت کا سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل تنہائی کا تعلق ڈپریشن، دل اور خون کی نالیوں کی بیماریوں سے ہے، بلکہ اس سے قبل از وقت موت کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ویب سائٹ Psychology Today میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق مختلف سرخیوں میں خبردار کیا جا رہا ہے کہ آج کے دور میں لوگوں کے پاس پہلے کی نسبت کم دوست رہ گئے ہیں۔

اسی لیے ماہرین اس بات پر مشورے بھی دے رہے ہیں کہ نئی دوستیاں کیسے قائم کی جائیں۔اسی دوران یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا اسمارٹ فونز نے سماجی زندگی کو متاثر کر دیا ہے یا نہیں اور کیا گھر سے کام کرنے (ریموٹ ورک) کے رجحان نے لوگوں کو ایک دوسرے سے مزید دور اور تنہا کر دیا ہے۔

تیسری جگہیں

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آخر لوگ تنہائی کیوں محسوس کرتے ہیں؟ماہرِ عمرانیات رے اولڈنبرگ کے مطابق صحت مند معاشروں کی بنیاد "تیسری جگہوں" (Third Places) پر ہوتی ہے۔

یہ ایسی غیر رسمی عوامی جگہیں ہوتی ہیں ،جہاں لوگ گھر اور کام کے علاوہ جمع ہوتے ہیں، باقاعدگی سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور تعلقات قائم کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر کافی شاپس، اسپورٹس یا بولنگ کلب، مشاغل کے گروپس یا رضاکارانہ تنظیمیں۔

تیسری جگہیں دراصل وہ مقامات ہیں ،جہاں لوگ اپنے گھر (پہلی جگہ) اور دفتر یا کام کی جگہ (دوسری جگہ) کے علاوہ دوسروں سے ملتے جلتے ہیں۔ انہی جگہوں پر بار بار ملاقاتیں ہونے سے آہستہ آہستہ تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور لوگ حقیقی دوست بن جاتے ہیں۔مگر آج کل ایسی تیسری جگہوں کی تعداد اور اہمیت میں کمی آ رہی ہے۔ لوگ کم جا رہے ہیں اور کلبوں یا سماجی تنظیموں میں شمولیت بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔

بعض لوگ تنہائی کو صرف ایک اندرونی احساس سمجھتے ہیں، یعنی یہ فرد کے اندر پیدا ہونے والی کیفیت ہے۔ لیکن کیا ہو اگر تنہائی کا تعلق صرف جذبات سے نہیں بلکہ ماحول اور معاشرتی ڈھانچے سے بھی ہو؟

اگر وہ جگہیں ہی ختم ہو جائیں ،جہاں لوگ بار بار ملتے تھے اور تعلقات بنتے تھے، تو تنہائی بڑھنا فطری بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں مضبوط سماجی روابط کے جال کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔

دوستی کیسے بنتی ہے؟

ماہرینِ عمرانیات طویل عرصے سے کہتے آ رہے ہیں کہ قریبی تعلقات عام طور پر اس لیے نہیں بنتے کہ کوئی شخص خاص طور پر دوستی کرنا چاہتا ہے۔ بلکہ یہ بار بار ملنے مشترکہ سرگرمیوں اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے بارے میں جاننے کے عمل سے بنتے ہیں۔ جب لوگ بار بار ایک ہی افراد سے ملتے ہیں اور ہر ملاقات میں خود کے بارے میں کچھ زیادہ بتاتے ہیں تو آہستہ آہستہ اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ رضاکارانہ تنظیموں اور سماجی گروہوں میں شرکت زندگی کے اطمینان، باہمی اعتماد اور ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہے۔

دوسرے الفاظ میں سماجی تعلقات ایک سرمایے کی طرح ہوتے ہیں، جتنا زیادہ کسی شخص کا تعلق مختلف سماجی حلقوں سے ہوگا، اتنے ہی زیادہ جذباتی اور عملی وسائل اس کے پاس ہوں گے۔

تحقیقی نتائج یہ بھی بتاتے ہیں کہ جو لوگ لمبی تنہائی کا شکار ہوتے ہیں، انہیں صرف یہ مشورہ دینا کافی نہیں کہ وہ اپنا خیال رکھیں، کسی ماہرِ نفسیات سے ملیں یا فون کم استعمال کریں۔ یہ اقدامات وقتی طور پر مدد تو دے سکتے ہیں، لیکن وہ سماجی ڈھانچہ دوبارہ قائم نہیں کرتے جس سے تعلقات بنتے ہیں۔

ایسے افراد کو ضرورت ہوتی ہے مشترکہ دلچسپیوں پر مبنی سرگرمیوں اور بار بار ملنے والے مواقع کی، تاکہ آہستہ آہستہ مانوسیت اعتماد میں بدل جائے۔ رومانوی تعلقات اہم ہو سکتے ہیں، لیکن وہ وسیع سماجی تعلقات کے جال کا متبادل نہیں بن سکتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size