اسرائیل نے آج منگل کے روز تہران کے قلب میں ہونے والے فضائی حملوں میں ایرانی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔
غلام رضا سلیمانی کون ہیں؟
سال 1963 میں پیدا ہونے والے غلام رضا سلیمانی ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل ہیں۔ وہ جولائی 2019ء سے بسیج تنظیم کی سربراہی کر رہے تھے۔ انہوں نے 1981ء میں پاسدارانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی اور ایران عراق جنگ کے دوران پہلے ایک کمپنی اور پھر ایک بٹالین کی کمان سنبھالی، جس کے بعد وہ متعدد فوجی آپریشنز کا حصہ رہے۔
واضح رہے کہ خاندانی نام کی مماثلت کے باوجود، ان کا قاسم سلیمانی (قدس فورس کے سابق سربراہ جنہیں جنوری 2020ء میں امریکی حملے میں قتل کیا گیا تھا) سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔
اسرائیلی رپورٹس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان کی قیادت میں "بسیج" یونٹ حالیہ احتجاجی تحریکوں کو کچلنے کا بنیادی ذریعہ رہا ہے۔
اس حوالے سے"Israel National News" کا کہنا ہے کہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سلیمانی کی ہلاکت سے داخلی سلامتی برقرار رکھنے کی بسیج کی صلاحیت کافی حد تک کمزور ہو جائے گی، خاص طور پر جب ایران کے اندرونی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل متعدد بار ایران کے اعلیٰ ترین قائدین اور فوجی حکام کو قتل کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے بھی آج ہی یہ اعلان کیا ہے کہ وزیراعظم نے ایرانی نظام کے سینئر ترین رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
-
سٹیو وِٹکوف امریکی سینیٹرز کے دوطرفہ گروپ کو ایران پر بریفنگ دیں گے: رپورٹ
امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف سینیٹرز کے ایک مختصر دوطرفہ گروپ کو منگل کی سہ پہر ایران ...
بين الاقوامى -
ایرانی تیل کی پیداوار اور برآمدات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں: اہلکار
ایران کی تیل کی پیداوار اور برآمدات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں، پارلیمانی توانائی ...
مشرق وسطی -
عراق کی ایران سے ابنائے ہرمز سے تیل کے ٹینکرز گزارنے کی درخواست
عراق کے وزیرِ تیل حیان عبد الغنی نے منگل کے روز تصدیق کی کہ ان کی حکومت ایران کے ...
مشرق وسطی