تتلی کے نام سے مشہور پہلے کلسٹر بم کی تاریخ
حال ہی میں کلسٹر بموں کا موضوع دوبارہ سرِ فہرست آیا ہے، حالانکہ 2008 میں اس قسم کے ہتھیاروں کی تیاری، ذخیرہ اندوزی اور استعمال پر پابندی کے لیے ایک معاہدہ وجود میں آیا تھا۔
تاہم ایران نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے تھے، حال ہی میں کلسٹر بموں کے استعمال کی طرف متوجہ ہوا ہے، جس سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ یہ ہتھیار دفاعی نظاموں کے لیے بڑا چیلنج ہیں کیونکہ یہ وسیع علاقوں میں پھیل جاتے ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی مچا سکتے ہیں۔
کلسٹر بم کی ایجاد کا آغاز پچھلے صدی میں ہوا، جب یہ جرمنوں نے تیار کیے۔ بعد میں اس کی کئی اقسام دیگر ممالک میں بنائی گئیں۔ اس قسم کے ہتھیار مختلف جنگوں میں استعمال کیے گئے، دوسری عالمی جنگ سے لے کر حالیہ ایران پر جنگ تک۔
کلسٹر بموں کا تصور
پہلے فعال کلسٹر بم کا آغاز جرمنی میں 1930 کی دہائی کے آخر میں ہوا۔ اس دوران کئی جرمن فوجی صنعتوں نے ایسے بم تیار کرنے پر کام کیا ،جو وسیع علاقوں کو کور کر سکیں اور متعدد دھماکے پیدا کر سکیں، تاکہ پیادہ فوج، ہلکی گاڑیاں اور شہریوں پر زیادہ شدید اور طاقتور حملے کیے جا سکیں۔
اس منصوبے میں رینمیٹل (Rheinmetall) کو خاص اہمیت حاصل تھی، جو جرمن فضائیہ کے لیے اس پروجیکٹ پر کام کرنے والی سب سے اہم فوجی صنعتی کمپنیوں میں شامل تھی۔
تتلی بم
1930کی دہائی کے آخر میں جرمنی میں SD-2 بم متعارف ہوا، جسے "تتلی بم" کے نام سے جانا گیا۔ یہ بم پہلی فعال اور جدید کلسٹر بم کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
وزن اور ڈیزائن: ہر SD-2 بم کا وزن تقریباً 2 کلوگرام تھا اور اسے مخصوص کنٹینرز میں رکھا جاتا تھا تاکہ ہوائی جہاز کے ذریعے منتقل کیا جا سکے۔
کام کرنے کا طریقہ: جب کنٹینر ہوائی جہاز سے گرایا جاتا، تو اس کا دروازہ کھلتا اور اندر موجود کئی بم الگ الگ گرنے لگتے۔
تتلی نما ڈیزائن: SD-2 بم میں ایک خودکار دھات کا ڈھکن لگا ہوتا جو گرنے کے دوران کھل جاتا، جس سے بم کو پنکھوں کی طرح شکل مل جاتی اور یہ آہستہ آہستہ زمین کی طرف اترتا، جس کی وجہ سے بم وسیع اور الگ الگ علاقوں میں گر سکتے تھے۔
یہ منفرد ڈیزائن بم کے گرنے کی رفتار کو کم کرتا اور نشانہ بنانے کے لیے دور دراز اور منتشر علاقوں میں گرنے کو آسان بناتا تھا، جس کی وجہ سے اسے "تتلی بم" کا نام ملا۔
جرمنوں کا تتلی بم کا استعمال
دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنوں نے SD-2 بم (تتلی بم) کو پہلی بار برطانیہ کے شہروں پر حملوں کے لیے استعمال کیا۔
1940 میں برطانیہ پر شروع ہونے والی بمباری مہم میں ایپس وچ (Ipswich) پہلی شہر تھا، جسے اس قسم کے کلسٹر بموں سے نشانہ بنایا گیا۔
جرمن فضائیہ نے اس ہتھیار کو شہریوں میں زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا۔ بعد میں برطانیہ کے کئی دیگر شہر بھی اسی بم سے نشانہ بنے۔
جنگ کے دوران جرمنی نے کلسٹر بم کی مزید اقسام تیار کیں اور ان میں زیادہ مقدار میں دھماکہ خیز مواد شامل کیا۔
22 جون 1941 کو سوویت علاقوں پر حملے کے آغاز کے ساتھ جرمنوں نے کلسٹر بم کی پیداوار میں اضافہ کیا اور اسے مشرقی محاذ پر استعمال کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق 1941 کی گرمیوں میں 289000 کلسٹر بم استعمال کیے گئے، جبکہ جولائی 1943 میں تقریباً 436000 بم اور اگست 1943 میں 520000 بم استعمال ہوئے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جرمنوں نے جنگ میں تتلی بم اور دیگر کلسٹر بموں کو بڑے پیمانے پر شہری علاقوں اور محاذ پر استعمال کیا۔
اسی دوران، کلسٹر بموں کی تیاری صرف جرمنی تک محدود نہیں تھی۔ اسی عرصے میں دیگر متحارب فریقوں، خاص طور پر امریکیوں اور سوویتوں نے بھی اپنی اپنی کلسٹر بم کی اقسام تیار کیں اور انہیں جنگی جھڑپوں میں استعمال کیا۔