فیصلہ کرنے میں زیادہ سوچنے والے افراد کے لیے سائنس کی رہنمائی
یہ صرف زیادہ سوچنےکا معاملہ نہیں بلکہ غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کا ایک بالکل مختلف طریقہ ہے، جس میں ہر اختیار کو مختلف زاویوں سے پرکھا جاتا ہے تاکہ اعتماد حاصل ہو سکے۔
جو لوگ ہچکچاہٹ سمجھتے ہیں، اکثر وہ فیصلہ سازی کا ایک گہرا اور پیچیدہ انداز ہوتا ہے، جسے زیادہ تر لوگ اختیار نہیں کرتے۔
امریکی جریدے VegOut کی رپورٹ کے مطابق کچھ لوگ روزمرہ کی چھوٹی چیزوں میں بھی مشکل محسوس کر سکتے ہیں، جیسا کہ ایک ٹوسٹر خریدنے کے لیے دکان میں جا کر۔
مثال کے طور پر اگر وہاں چودہ مختلف ماڈل موجود ہوں، تو وہ ہر ماڈل کے لیبل کو دو بار پڑھتے ہیں، پھر فون پر ریویوز موازنہ کرتے ہیں اور یہ سب کرتے ہوئے بیس منٹ گزر جاتے ہیں۔ ان کے ذہن کے کسی گوشے میں ایک آواز کہتی ہے: یہ کام اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔
ایک قابلِ پیمائش نفسیاتی نمونہ
زیادہ تر لوگوں کے لیے فیصلہ کرنا اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے، لیکن زیادہ سوچنے والے افراد کے معاملے میں صورتحال مختلف ہوتی ہے۔
یہ لوگ فیصلہ کرتے وقت عام لوگوں کی طرح عمل نہیں کرتے۔ بلکہ وہ علمی طور پر کچھ مختلف کرتے ہیں اور یہ فرق ان کے کردار کی خامی نہیں بلکہ ایک قابلِ پیمائش نفسیاتی نمونہ ہے۔
یہ نمونہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ معلومات کو کس طرح پروسیس کرتے ہیں، مختلف اختیارات کا جائزہ کیسے لیتے ہیں اور ہر اختیار کے نتائج کو کس طرح سمجھتے ہیں۔ اس طریقے سے ان کی فیصلہ سازی کا عمل زیادہ پیچیدہ اور محتاط ہوتا ہے۔
فیصلہ سازی کے دو بالکل مختلف نظام
پچاس کی دہائی میں ماہر اقتصادیات ہربرٹ سائمن نے کہا کہ انسان اپنے فیصلوں کو واقعی بہتر نہیں بناتے۔ وہ ہر ممکنہ اختیار کا جائزہ لے کر بہترین انتخاب نہیں کرتے، کیونکہ اس کے لیے علمی وسائل بہت زیادہ درکار ہوتے۔ اس کے بجائے زیادہ تر لوگ وہ کرتے ہیں ،جسے سائمن نے کافی پر اکتفا(Satisficing) کہا، یعنی اطمینان اور اکتفا کا مجموعہ۔
وہ اختیارات کا جائزہ لیتے ہیں، جب تک کہ انہیں کوئی ایسا اختیار نہ مل جائے ،جو ان کے قابلِ قبول معیار پر پورا اترے، پھر وہ اسے منتخب کر لیتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔
بعد میں شوارتز، ورڈ، مونٹیرسو، لیوبومیرسکی، وائٹ اور لیمن نے سائمن کے نظریے کو ایک قابلِ پیمائش ذاتی پہلو میں تبدیل کیا۔
محققین نے دریافت کیا کہ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں:جو کافی پر اکتفا کرتے ہیں (جو اچھا، بس کافی ہے کے اصول پر عمل کرتے ہیں)جو کمال پسندی کے خواہاں ہیں (جو بہترین تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں)۔
متعدد مطالعے جن میں 1700 سے زائد افراد شامل تھے،ان میں یہ بات سامنے آئی کہ کمال پسند افراد زندگی، خوشی، امید اور ڈپریشن میں کافی کم اطمینان محسوس کرتے ہیں، جبکہ کافی پر اکتفا کرنے والے زیادہ مطمئن رہتے ہیں۔
کمال پسند افراد اکثر سماجی موازنہ کرتے ہیں اور پچھتاوے کے جذبات کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔لہٰذا اگر کوئی شخص زیادہ سوچتا ہے، تو امکان یہی ہے کہ وہ کمال پسندی کے زمرے میں آتا ہو۔
اس کا اثر صرف فیصلہ کرنے میں زیادہ وقت لینے تک محدود نہیں، بلکہ ہر فیصلے کے ساتھ جذباتی دباؤ اور پیچیدگی بھی جڑی ہوتی ہے۔
سوچ کا چکر
زیادہ تر لوگ فیصلہ کرنے کے بعد آگے بڑھ جاتے ہیں، لیکن جو لوگ زیادہ سوچتے ہیں، وہ فیصلہ کرنے کے بعد بھی اس پر غور کرتے رہتے ہیں۔
وہ ان اختیارات پر دوبارہ سوچتے ہیں، جو انہوں نے منتخب نہیں کیے، یہ تصور کرتے ہیں کہ کیا ہوتا اگر وہ کوئی اور انتخاب کرتے اور ایسے معلومات کی بنیاد پر فیصلے کی درستگی کا جائزہ لیتے ہیں جو فیصلہ کرتے وقت دستیاب نہیں تھیں۔
اسے خیالی یا فرضی سوچ (Counterfactual Thinking) کہا جاتا ہے اور یہ کمال پسندی کرنے والے ذہن کی ایک اہم خصوصیت ہے۔
Judgement Decision Making جریدے میں شائع ایک مطالعے کے مطابق جو لوگ ہر فیصلے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، انہیں فیصلوں اور اختیارات پر سوچنا روکنے میں زیادہ دشواری ہوتی ہے۔
خود سوچ میں الجھنا (Self-Rumination) اختیارات کے جائزے کو مزید شدید کر دیتا ہے، جس سے منفی جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا کہ عصابی پن (Neuroticism) اور نہ کہ ضمیر کی حساسیت، زیادہ سوچنے کے رجحان کا سب سے مضبوط ذاتی اشارہ ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ زیادہ سوچنے والے لوگ زیادہ محتاط نہیں، بلکہ زیادہ فکرمند ہیں۔ یہ فکری دباؤ فیصلہ سازی کی مدد نہیں کرتا بلکہ اسے خراب کر دیتا ہے۔
معلومات کی زیادتی کا مسئلہ
زیادہ سوچنے والے افراد فیصلہ کرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ بظاہر منطقی لگتا ہے۔ لیکن ہر اضافی معلومات کی حد ہوتی ہے اور ایک نقطے کے بعد اضافی معلومات فیصلہ سازی کے معیار کو بہتر کرنے کی بجائے اسے کمزور کر دیتی ہیں۔
مطالعوں اور جائزوں کے مطابق زیادہ سوچنے والے افراد غلط فیصلہ کرنے کے خوف اور بعد میں پچھتاوے کی توقع کی وجہ سے فیصلہ سازی کے عمل کو خطرناک سمجھتے ہیں۔
اس کا نتیجہ اکثر فیصلہ سازی میں جمود (Decision Paralysis) کی صورت میں نکلتا ہے، جہاں وہ کسی ایک اختیار پر قائم ہونے میں مشکل محسوس کرتے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ یہ بہترین فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
فیصلہ کرنے کے بعد کا تجربہ
فیصلہ کرنے کے بعد بھی زیادہ سوچنے والے افراد کا علمی عمل کم سے کم اکتفا کرنے والے افراد سے مختلف رہتا ہے۔ کم سے کم اکتفا کرنے والے افراد میں نفسیات دان علمی اختتام (Cognitive Closure) کہتے ہیں: فیصلہ کیا جاتا ہے، معاملہ ختم ہو جاتا ہے اور دماغ اگلی چیز پر مرکوز ہو جاتا ہے۔لیکن زیادہ سوچنے والے افراد کو یہ اختتام حاصل نہیں ہوتا۔
وہ فیصلے کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، متبادل اختیارات کے پیشِ نظر اور خاص طور پر نئی معلومات کے اثر میں آ جاتے ہیں ،جو یہ ظاہر کرتی ہوں کہ انہوں نے غلط انتخاب کیا ہے۔ اس طرح ان کے ذہن میں فیصلہ سازی کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور ذہنی دباؤ بڑھتا رہتا ہے۔
ناکامی پر غلط استدلال
شوارتز کی تحقیق کے مطابق زیادہ سوچنے والے افراد سماجی موازنہ (Upward Social Comparison) سے زیادہ منفی متاثر ہوتے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ کسی نے کوئی مختلف فیصلہ کیا اور اس سے خوش نظر آ رہا ہے، تو زیادہ سوچنے والا شخص اسے اپنی ناکامی کی علامت سمجھ لیتا ہے۔
اس کے برعکس کم سے کم اکتفا کرنے والے افراد وہی معلومات دیکھ کر بھی متاثر نہیں ہوتے، کیونکہ ان کا فیصلہ پہلے ہی کم سے کم معیار پر پورا اترا ہوا ہوتا ہے اور اس لیے فیصلہ سازی کا عمل ان کے لیے مکمل سمجھا جاتا ہے۔
ذہنی مشقت اور تھکن
زیادہ سوچنے والے افراد اسی وجہ سے غیر معمولی ذہنی تھکن محسوس کرتے ہیں اور یہ اکثر دوسروں کے لیے سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔ ایک فیصلے کے لیے صرف انتخاب کی لمحے کی محنت ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے کی معلومات تلاش کرنے اور بعد میں اس فیصلے کے جائزے کا عمل بھی شامل ہوتا ہے۔
یہ مسلسل ذہنی کوشش روزانہ، ہفتہ وار یا حتیٰ کہ زندگی بھر کے فیصلوں کے ساتھ جمع ہو جاتی ہے اور ہر فیصلہ جذباتی بوجھ کو بڑھا دیتا ہے، جس سے ذہنی اور جذباتی تھکن پیدا ہوتی ہے۔
عام مشورہ اور اس کی حدود
زیادہ سوچنے والے افراد کے لیے عام مشورہ یہ ہوتا ہے: فیصلہ کر لو یا زیادہ سوچنا بند کرو۔ لیکن یہ مشورہ اکثر بے فائدہ ہوتا ہے کیونکہ یہ مسئلے کو غلط سمجھتا ہے۔
زیادہ سوچنے والا شخص سوچنا انتخاب کرکے نہیں کرتا، بلکہ اس کا دماغ ایک مختلف علمی نظام کے مطابق کام کرتا ہے۔ اسے صرف سوچنا بند کرو کہنا ایسے ہے جیسے کسی فرانسیسی بولنے والے شخص سے کہا جائے کہ وہ انگریزی بولےدماغ کی ساخت اور طریقہ کار بالکل مختلف ہے، اس لیے یہ مشورہ مؤثر نہیں ہوتا۔
حقیقی مدد
اصل مدد صرف قوتِ ارادی سے نہیں بلکہ منظم طریقہ کار اور فیصلہ سازی کے لیے وقت کی حدیں مقرر کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
اس میں سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ فیصلے کے اختیارات کا جائزہ لینے سے پہلے یہ معیار طے کر لیا جائے کہ "کافی اچھا" کیا ہے، یعنی فیصلہ کرنے والے کے لیے کم از کم اطمینان کی حد معلوم ہو۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ فیصلہ کرنے کے بعد بے چینی یا عدم اطمینان کا احساس اس بات کی علامت نہیں کہ فیصلہ غلط تھا، بلکہ یہ اس شخص کے علمی انداز (Cognitive Style) کی ایک خصوصیت ہے اور یہ احساس منتخب کیے گئے فیصلے سے قطع نظر ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
-
3حیران کن نشانیاں، کیا آپ کی شریکِ حیات آپ کی ہم روح ہے؟
عام طور پر ہم آہنگی (Compatibility) کے بارے میں ایک ایسی عام تصوراتی تصویر پیش کی ...
ایڈیٹر کی پسند -
بھرے پیٹ کے باوجود کھانے کی خواہش کیوں؟ ماہرین نے وجہ بتا دی
ایک شخص کھانا کھا کر مکمل طور پر سیر ہو جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود خود کو کسی ہلکی ...
ایڈیٹر کی پسند -
نوجوانی میں بننے والی دوستیاں: دماغ اور جذباتی تعلقات کا راز
ایک حالیہ تحقیق جو نوجوانوں کی سماجی ترقی پر مرکوز ہے،اس سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ...
ایڈیٹر کی پسند