نوجوانی میں بننے والی دوستیاں: دماغ اور جذباتی تعلقات کا راز
ایک حالیہ تحقیق جو نوجوانوں کی سماجی ترقی پر مرکوز ہے،اس سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ نوعمری کے دوران سماجی الگاؤ صرف وقتی تنہائی کا باعث نہیں بنتا، بلکہ یہ دماغ کی ساخت کو ایسے طریقوں سے دوبارہ تشکیل دیتا ہے، جو بلوغت تک برقرار رہتے ہیں۔
Global English Editingکی رپورٹ کے مطابق تحقیق کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 16 سے 25 سال کی عمر میں بننے والی دوستیاں دماغ کے عصبی نظام میں کسی بھی بعد میں بننے والی دوستیاں سے مختلف مقام رکھتی ہیں۔
ایک حیران کن حقیقت یہ ہے کہ یہ دوستیاں تقریباً ان افراد سے قطع نظر ناقابلِ تلافی نظر آتی ہیں، یعنی یہ صرف دوستوں کی شخصیت یا خصوصیات کی وجہ سے نہیں بلکہ دماغی اور سماجی ترقی کے مخصوص مراحل کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
دماغ کی غیر معمولی لچک
تحقیقات کے مطابق انسان کا دماغ نوعمری اور ابتدائی جوانی کے دوران غیر معمولی لچک سے گزرتا ہے۔ اس وقت پیشانی کا قشر (Prefrontal Cortex) ابھی مکمل طور پر ترقی نہیں پایا ہوتا۔
اسی دوران جذبات کے ذمہ دار لیمبک سسٹم (Limbic System) بھی اپنی عروجی فعالیت میں ہوتا ہے۔دماغ کے سماجی نیٹ ورک اس وقت نئے تعلقات بنانے کے لیے کھلے رہتے ہیں، جس سے نئے روابط تیزی اور غیر معمولی گہرائی کے ساتھ بنتے ہیں۔
نیوروسائنس کی تحقیقات نے یہ بھی بتایا ہے کہ نوعمر دماغ میں نیورونز کے رابطے (Synapses) کی کثافت اور ان کی تجدید خاص طور پر ان علاقوں میں ہوتی ہے، جو سماجی ادراک جذباتی نظم و نسق اور شناخت کی تشکیل کے ذمہ دار ہیں۔
دماغ کی ساخت کا حصہ
جو جوابات دماغ وصول کرتا ہے، وہ اس طرح محفوظ ہو جاتے ہیں کہ بعد کی تجربات انہیں نقل نہیں کر سکتیں۔ اس دوران بننے والے روابط محض یادیں نہیں رہتے، بلکہ دماغ کی سماجی ساخت کا لازمی حصہ بن جاتے ہیں اور وہ عصبی راستوں میں جڑ جاتے ہیں، جو زندگی بھر دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے طریقے کو منظم کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے جب کسی شخص کو یونیورسٹی کے دوست سے رابطہ ملتا ہے، جس سے وہ آٹھ سال سے بات نہیں کر رہا، تو نوے سیکنڈ کے اندر اسے ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے وقت گزرا ہی نہیں۔ دماغ کو دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ یہ ایک ساختی (بنیادی) رشتہ ہے۔
نیورونل ٹرمِنگ (Synaptic Pruning)
تحقیقات کے مطابق تقریباً بیس کی دہائی کے وسط میں دماغ ایک ایسا عمل شروع کرتا ہے جسے ''نیورونل ٹرمِنگ'' کہتے ہیں اور یہ زیادہ مؤثر طریقے سے ہوتا ہے۔
اس دوران پیشانی کے قشر (Prefrontal Cortex) کی لمبی نمو مکمل ہو جاتی ہے۔نیورونز کے گرد مایالین کی تہہ (Myelination) بڑھ جاتی ہے، جس سے دماغی سگنلز کی ترسیل تیز ہو جاتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں وہ لچک کم ہو سکتی ہے ،جو پہلے نئے اور گہرے سماجی روابط بنانے میں مددگار تھی۔
بالغوں کی دماغی لچک
مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بالغوں میں دماغی لچک زیادہ مرکوز اور محنت طلب ہوتی ہے اور زیادہ تر شعوری کوشش، تکرار اور شرکت پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی بالغ نئی زبان سیکھے۔ ایک بچہ جو کسی دوسری زبان میں ڈوبا ہو، اسے تقریباً لاشعوری طور پر سیکھ لیتا ہے، جبکہ بالغ کو اسی زبان کو سیکھنے کے لیے منظم مطالعہ بار بار مشق اور مسلسل کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالغ زبان پر عبور حاصل کر سکتا ہے، لیکن عمل بنیادی طور پر مختلف ہوتا ہے اور روانی کا احساس بھی عموماً تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔
یہی اصول 25 سال کی عمر کے بعد دوستیاں بنانے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ بالغ شخص گہرے اور معنی خیز روابط قائم کر سکتا ہے، لیکن دماغ پہلے ہی یہ طے کر چکا ہوتا ہے کہ سماجی تعلقات کے بارے میں کس طرح محسوس کرے اور نئی دوستیاں وہ نمونہ کے ساتھ موازنہ کرتا ہے جو کھلی ونڈو کے دوران بنایا گیا تھا۔
لوگ عموماً اپنی بچپن یا نوعمری کی دوستوں کو رومانی رنگ دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ گرمجوشی صرف پرانی یادوں اور سادہ وقتوں کے جذباتی تعلق کی وجہ سے ہے۔ لیکن نیوروسائنس کے مطابق یہ دوستیاں واقعی مختلف ہوتی ہیں کیونکہ یہ اس دور میں بنی ہوتی ہیں، جب دماغ کے سماجی اور جذباتی نظام اپنی عروجی استعداد پر ہوتے ہیں۔
تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ نوعمری میں سماجی تعلق کے لیے ڈوپامین کی ردِعمل اور آکسیٹوسین نظام کی سرگرمی اپنی چوٹی پر ہوتی ہے۔ اسی دوران ایملیڈالا (Limbic Amygdala) جذباتی یادداشت کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے، جو ان تجربات کو بے حد اہمیت دیتا ہے، ایک اہمیت جو بالغوں کے تجربات شاذ و نادر ہی پیدا کرتے ہیں۔