کامیاب بچوں کو ٹیکنالوجی کے اثرات سے محفوظ رکھنا ضروری ہے: نیورو سائنسدان

دوران پرورش بچوں کو وہ مہارتیں نہ سکھائیں جن کی انہیں 10 سال بعد ضرورت نہیں ہوگی: ماہر مصنوعی ذہانت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

اس دور میں بہت سے لوگ مصنوعی ذہانت اور ذاتی مہارتوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں تاہم کمپنیاں اب بھی اعلیٰ ڈگریوں کی بنیاد پر ملازمتیں دے رہی ہیں اور سکول اب بھی امتحانات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ لیکن بچوں کی پرورش اصولوں کی پیروی اور جوابات حفظ کرنے پر کرنا انہیں ایسی ملازمتوں کے لیے تیار کرتا ہے جو شاید مستقبل میں موجود ہی نہ ہوں۔ اس سب سے وہ ایسی دنیا کے لیے نااہل ہو جاتے ہیں جو تخلیقی صلاحیت، تجسس اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو اہمیت دیتی ہے۔

امریکی نیٹ ورک "سی این بی سی" کی ویب سائٹ کے مطابق نیورو سائنسدان اور کاروباری شخصیت ویوین منگ نے کہا کہ انہوں نے اپنا کیریئر ایک سادہ سا سوال پوچھنے کے لیے وقف کر دیا ہے: وہ کون سی مہارتیں اہم ہوں گی جب مصنوعی ذہانت جوابات پیدا کرنے اور بہت سے علمی عمل کو خودکار بنانے کے قابل ہو جائے گی؟

اس میں ترقی کے بارے میں سوچنے کے انداز میں بنیادی تبدیلیاں شامل ہیں یعنی علم کی منتقلی سے لے کر صلاحیتوں کی تعمیر تک۔ اگر بچوں کو مستقبل میں برتری دلوانے کی خواہش ہے تو پرورش کے طریقوں میں انہیں ٹیکنالوجی کے اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں۔

1. ناکامی کے بائیو ڈیٹا کا اطلاق

ڈاکٹر ویوین منگ کی تحقیق میں ایک مستقل نمونہ سامنے آتا ہے کہ بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ اکثر اپنی غلطی تسلیم کرنے کے لیے سب سے زیادہ تیار ہوتے ہیں۔ ماڈل ظاہر کرتے ہیں کہ تلاش، اور یہاں تک کہ ناکامی، صحیح جوابات دہرانے کے مقابلے میں گہرے سیکھنے کی بہتر پیش گوئی کرتی ہے۔ لیکن مروجہ تعلیمی نظاموں پر درستی کا جنون غالب ہے جو بچوں سے یہ فطری جبلت چھین لیتا ہے۔ وہ نظام انہیں سکھاتے ہیں کہ ناکامی ان کی قدر کی پیمائش کرتی ہے بجائے اس کے کہ وہ ان کی نشوونما کو مہمیز کرے۔

جہاں تک "ناکامی کے بائیو ڈیٹا" کا تعلق ہے تو یہ ایک زندہ دستاویز ہے۔ ایک خاندانی روایت جس میں ناکامی کو ریکارڈ کیا جاتا ہے اور اسے منایا جاتا ہے۔ یہ ہر اس موقع کا واضح ثبوت ہے جہاں غلطی تسلیم کرنے میں کی گئی کوشش بارآور ثابت ہوئی۔ اس سے سیکھنے والے کی لچک، تجسس اور کھلے مسائل حل کرنے کی صلاحیت مضبوط ہوئی۔

طریقہ کار: مہینے میں ایک بار خاندان کے اجتماع کے دوران والدین سب سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے بائیو ڈیٹا میں ایک ناکامی کا اضافہ کریں۔ چاہے وہ فٹ بال میں ضائع ہونے والا گول ہو، امتحان میں ناکامی ہو یا کوئی کاروباری منصوبہ جو کامیاب نہ ہو سکا ہو۔

مقصد: یہ طریقہ کار معاملے کو نئے سرے سے ترتیب دینے میں مدد کرتا ہے۔ یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ "تم کس چیز میں ناکام ہوئے؟" بلکہ اس طرح پیش کیا جائے: "تم نے کیا آزمایا جو مشکل تھا؟ اور تم نے اس سے کیا سیکھا؟" تاکہ اپنی صلاحیتوں کی حدود سے آگے بڑھنا ایک عام بات بن جائے بلکہ اسے منایا جا سکے اور پھر اس کوشش کو ترقی کے انعامات سے جوڑا جائے۔

2. سوچے سمجھے اتفاقات کا فائدہ اٹھانا

بچوں کی پرورش کے حوالے سے ماہرین ایک اور بات جسے "ہارورڈ اثر" کہا جاتا ہے کا بھی بتاتے ہیں۔ معروف یونیورسٹیوں سے وابستہ زندگی کے نتائج میں بڑا فائدہ ہے۔ لیکن یہ کوئی جادو نہیں ہے اور نہ ہی یہ صرف تعلیمی نصاب تک محدود ہے۔ ایک ممتاز یونیورسٹی اپنی اصل میں سوچے سمجھے اتفاقات کے لیے ایک انتہائی مرکوز ماحول ہے۔ ان یونیورسٹیوں کی اصل قیمت رسمی تعلیمی نصاب کے ساتھ ساتھ ڈائننگ ہال میں ہونے والی بے ساختہ گفتگو، متنوع کلبوں اور ہزاروں پیچیدہ مسائل کے مسلسل سامنا کرنے میں ہے جن کا حل کتابوں میں نہیں ملتا۔

’’ ہارورڈ اڑر‘‘ کے اس تصور کے بنیادی اصولوں سے تحریک حاصل کی جا سکتی ہے، خاص طور پر اگر کچھ لوگوں کے لیے اپنے بچوں کو معروف یونیورسٹیوں میں بھیجنا ممکن نہ ہو۔ اس کا خلاصہ "اتفاق کی انجینئرنگ" میں ہے جس کا مطلب ایک ایسا ماحول بنانا ہے جو رابطے اور غیر متوقع دریافتوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ کوئی بھی گھر یا کلاس روم جو غیر یقینی صورتحال کے انتظام پر مبنی ہو، وہ محفوظ تو ہوتا ہے لیکن جراثیم سے پاک (بے اثر) نہیں؛ منظم تو ہوتا ہے لیکن جامد نہیں - اس ماحول میں تجسس پروان چڑھتا ہے۔

طریقہ کار: گھروں کو دلچسپ مسائل سے بھرپور جگہ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کچن کی میز پر ایک خراب ٹوسٹر اس کے پاس پڑے ہوئے سکرو ڈرائیور کے ساتھ چھوڑا جا سکتا ہے یا بچوں کی دنیا کو متنوع معلومات سے مالا مال کرنے کے لیے بالکل مختلف شعبوں کے جریدوں کی رکنیت لی جا سکتی ہے۔ یہ ایک افراتفری ہے لیکن یہ ایسی افراتفری ہے جو تلاش کی دعوتوں سے بھری ہوئی ہے۔

3. بچہ مصنوعی ذہانت کا نقاد

اس نسل کے لیے جو ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہی ہے جہاں بڑے سیکھنے کے ماڈلز (LLMs) ایک مستقل ساتھی ہیں۔ اس طریقے سے بہت زیادہ محنت والے کام سونپنے کا لالچ پیدا ہوگا۔ والدین کو بچوں کے درمیان ایک عام سوال کا سامنا ہے: "ہم مضمون لکھنے، ریاضی کا مسئلہ حل کرنے، یا کوئی نیا تصور سیکھنے میں خود کو کیوں تھکائیں، جب کہ مشین سیکنڈوں میں بہترین جواب دے سکتی ہے؟"۔ اس کا جواب یہ ہونا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت اور اس کے اوزار محض ایک آلہ ہیں جو عارضی طور پر کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں، لیکن بند ہونے پر صارف کو کمزور کر دیتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ اس طرح تعامل کرنا سکھانا چاہیے جو ان میں تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھائے۔

مقصد: بچے کے کردار کو ایک غیر فعال صارف سے مصنوعی ذہانت کے نتائج کے ایک فعال نقاد میں تبدیل کرنا ہی مقصد ہے۔ مصنوعی ذہانت ایک "ذہین لیکن سادہ لوح" ساتھی بن جاتی ہے اور بچہ وہ ہوتا ہے جو اس سے سوال کرتا ہے۔ اس کی رہنمائی کرتا ہے اور اس کا جائزہ لیتا ہے۔ بچے ذہن سازی یا تلاش کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر سکتے ہیں لیکن انہیں اپنا پہلا مسودہ یا اپنا حل خود تیار کرنا چاہیے۔

بچے کو مصنوعی ذہانت کے وسیع علم کو مطلق حقیقت کے ذریعہ کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے شراکت دار کے طور پر استعمال کرنا سیکھنا چاہیے جو اسے اپنے منفرد ویژن کو نکھارنے میں مدد دے۔

دنیا کے پاس پہلے سے ہی صحیح جواب تیار اور تقریباً مفت موجود ہے۔ اصل قیمت جو بچہ شامل کرتا ہے وہ اس جواب میں ہے جو اس کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ مصنوعی ذہانت کے چیف نقاد کے طور پر بچہ مصنوعی ذہانت کے علم کی بنیاد پر اپنے معنی تلاش کرتا اور تخلیق کرتا ہے۔ یہی تخلیقی کام کا جوہر ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کی دنیا کو سخت ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں