امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل پر لبنان میں حملے روکنے کے واضح مطالبے کے بعد، اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی افواج لبنان، شام اور غزہ کی پٹی کے سکیورٹی علاقوں سے انخلا نہیں کریں گی اور غیر معینہ مدت تک وہاں موجود رہیں گی۔
کاٹز نے آج پیر کے روز ایک بیان میں زور دیا کہ وہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایک واضح پالیسی اپنا رہے ہیں جس کے تحت فوج اسرائیلی سرحدوں اور بستیوں کے تحفظ کے لیے لبنان، شام اور غزہ کے سکیورٹی علاقوں میں غیر معینہ مدت تک تعینات رہے گی۔
مزید برآں اسرائیلی وزیر نے اشارہ کیا کہ اس علاقے کو مقامی آبادی سے خالی کرایا جائے گا اور تمام دہشت گرد بنیادی ڈھانچوں کو، زمین کے اوپر اور نیچے... تباہ کر دیا جائے گا، بشمول سرحدی دیہات میں موجود ان گھروں کے جو ان کے کہنے کے مطابق دہشت گردوں کے گڑھ بنے ہوئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم موجودہ اور مستقبل کے تمام دباؤ کے باوجود لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی مخالفت کرتے ہیں۔
نیز کاٹز نے اعلان کیا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ اسرائیل سکیورٹی علاقوں سے انخلا نہیں کرے گا،،، اور مزید کہا کہ انہوں نے کل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ کو بھی اس سے آگاہ کر دیا ہے۔
اس دوران کاٹز نے اسرائیلی اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن میں کوئی ایسی قوتیں ہیں جو اس سکیورٹی تصور پر سوال اٹھاتی ہیں اور اسرائیلی فوج کے انخلا کی حمایت کرتی ہیں، تو انہیں اپنا موقف واضح کرنا چاہیے تاکہ رائے عامہ دونوں موقفوں کے درمیان فرق کر سکے۔
انہوں نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے زور دیا کہ اگر ایران نے لبنان میں پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں اسرائیل پر حملہ کیا تو ہم پوری قوت کے ساتھ جوابی حملہ کریں گے اور اسے واضح طور پر طاقت کے توازن میں بگاڑ دکھا دیں گے۔
دوسری جانب اسرائیلی چینل 12 کے مطابق اسرائیلی حکام نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے انخلا کا پابند نہیں ہے۔
یہ بیان نیتن یاہو کے قریبی اتحادی ٹرمپ کے لیے کسی حد تک ایک چیلنج ہیں... اور ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے ممکنہ خطرہ ہیں۔ خاص طور پر اس لیے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ جامع معاہدے کے حصے کے طور پر لبنان میں جنگ بندی پر اصرار کیا تھا۔
امریکی صدر نے کل بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی حملے میں الغبیری کے علاقے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ کسی اور لبنانی علاقے پر حملہ نہ کرے۔
اس دوران با خبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ٹرمپ نے کل ایک فون کال میں اپنے دوست "بی بی" (نیتن یاہو) کو سرزنش کی اور بیروت کے مضافات پر بم باری کے بعد ان کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے۔
بعد ازاں چند گھنٹوں بعد ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت تک پہنچنے کا اعلان کیا، جس نے اسرائیل کے اندر کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔ تل ابیب نے محسوس کیا کہ معاہدے کا فارمولا، اس کی تمام تفصیلات ظاہر نہ ہونے کے باوجود اسرائیل کے کئی خدشات کو دور نہیں کرتا۔ ان میں سرفہرست ایرانی بیلسٹک میزائل... اور خطے میں خاص طور پر حزب اللہ اور حماس کی مسلح گروہوں کے لیے تہران کی حمایت ہے۔