سونے سے پہلے پانی پینا ایک ایسا موضوع ہے ،جس پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، کچھ لوگ اسے صحت کے لیے مفید سمجھتے ہیں جبکہ کچھ اسے نیند میں خلل کا سبب قرار دیتے ہیں، تاہم اصل حقیقت میں توازن ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس حوالے سے ویب سائٹ Verywell Health کی ایک رپورٹ کے مطابق سونے سے پہلے مناسب مقدار میں پانی پینا جسم میں نمی (ہائیڈریشن) برقرار رکھنے اور نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو دن بھر میں مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتے۔
اعداد و شمار اور تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ بہتر ہائیڈریشن جسم کے مختلف افعال کو سہارا دیتی ہے، جن میں جسمانی درجہ حرارت کو متوازن رکھنا اور نیند کے قدرتی چکروں (sleep cycles) کو منظم کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ یہ عادت پانی کی کمی سے ہونے والے سر درد اور پٹھوں کے کھنچاؤ (muscle cramps) کو کم کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔
ہاضمے اور نیند سے متعلق فوائد
اعداد و شمار اور مشاہدات کے مطابق سونے سے پہلے پانی پینا ہاضمے کے عمل کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ نیند کے دوران جسم خوراک کو پراسیس کرنے اور نظامِ ہضم کی کارکردگی کو جاری رکھنے کا عمل انجام دیتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ عادت رات کے وقت بھوک کے احساس کو کم کر سکتی ہے اور غیر ضروری طور پر زیادہ کھانے سے بھی بچا سکتی ہے۔
اسی طرح نیم گرم مشروبات جیسے جڑی بوٹیوں والی چائے (ہربل ٹی) کا استعمال جسم اور ذہن کو سکون دینے میں مدد دیتا ہے، جو بہتر نیند کے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب اسے معتدل مقدار میں استعمال کیا جائے۔
مزید برآں کچھ تحقیقی مطالعات یہ بھی اشارہ کرتے ہیں کہ مناسب ہائیڈریشن بالواسطہ طور پر ذہنی دباؤ (اینزائٹی) اور ڈپریشن کی علامات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، کیونکہ بہتر نیند مجموعی ذہنی صحت پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔
یہ کب مسئلہ بن جاتا ہے؟
اس کے برعکس اگر سونے سے پہلے بہت زیادہ مقدار میں پانی پیا جائے تو یہ رات کے دوران بار بار پیشاب کے لیے اٹھنے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے نیند کا تسلسل متاثر ہوتا ہے اور اس کا معیار خراب ہو جاتا ہے۔
یہ مسئلہ عمر بڑھنے کے ساتھ زیادہ عام ہو جاتا ہے اور اس میں کیفین یا الکحل کے استعمال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ خود نیند کی خرابیوں سے بھی جڑا ہوا ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ سونے سے فوراً پہلے زیادہ پانی پینا کچھ افراد میں تیزابیت (ایسڈ ریفلکس) کی علامات کو بھی بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر جب فوراً لیٹ جایا جائے۔
ان اثرات سے بچنے کے لیے عام طور پر یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ سونے سے دو سے چار گھنٹے پہلے تک زیادہ مقدار میں مائع چیزوں کا استعمال کم کر دیا جائے اور اگر ضرورت ہو تو صرف تھوڑی مقدار تقریباً 90 ملی لیٹر استعمال کی جائے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سونے سے پہلے پانی پینا اعتدال کے ساتھ مفید ہو سکتا ہے، لیکن اگر وقت اور مقدار کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ نیند میں خلل کا باعث بن سکتا ہے۔