سائنسدانوں نے جینیاتی طریقے سے گریپ فروٹ کو میٹھا بنا دیا
1990 کی دہائی کے آخر میں مالیکیولر بایولوجی کے ماہرین نے وہ جینز اور قدرتی عمل کو تیز کرنے والے مادّے (انزائمز) شناخت کیے جو گریپ فروٹ میں کڑواہٹ پیدا کرنے والے مرکبات کی تشکیل کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
حالیہ عرصے میں محققین نے جینیاتی ترمیمی ٹیکنالوجی CRISPR/Cas9 کا استعمال کرتے ہوئے گریپ فروٹ کی ایک قسم (Citrus paradisi) میں اس مخصوص جین کو غیر فعال کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی کڑواہٹ ختم ہو گئی ہے۔
نئی اقسام کی تیاری
ابتدائی تحقیق میں ترش پھلوں میں ان مرکبات کے راستے کی نشاندہی کی گئی ،جو کڑواہٹ پیدا کرتے ہیں، اس کے بعد جینیاتی ترمیم کی تکنیک کو زرعی عمل میں استعمال کرتے ہوئے ایسے نئے ذائقے والے تبدیل شدہ اقسام تیار کرنے پر کام کیا گیا۔ یہ بات ویب سائٹ Refractor نے جریدے The Plant Journal کے حوالے سے نقل کی ہے۔
زبان پر کڑواہٹ محسوس کرنے والے حساسات کی اقسام دیگر ذائقوں کے حساسات کے مقابلے میں زیادہ قسمیں ہوتی ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ قسمیں ہمیں خوراک میں موجود مختلف ممکنہ زہریلے مرکبات کو شناخت کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
تحقیقی نتائج کے مطابق چونکہ ان حساسات کی تعداد محدود ہوتی ہے، اس لیے کچھ غیر متوقع اثرات کا پیدا ہونا لازمی ہے۔
مثال کے طور پر بہت سے غذائی مرکبات نقصان دہ نہیں ہوتے بلکہ صحت بخش ہوتے ہیں، لیکن بقا کے قدرتی نظام کے تحت انہیں بھی کڑوا محسوس کیا جا سکتا ہے۔
دلکش خصوصیت
بالغ افراد جو کڑوے ذائقے والی غذائیں جیسے گریپ فروٹ کھاتے ہیں، عموماً وہ وقت کے ساتھ ان کڑوے مرکبات کے ذائقے کے عادی ہو جاتے ہیں۔
بار بار استعمال سے یہی غذائیں زیادہ قابلِ قبول اور خوش ذائقہ محسوس ہونے لگتی ہیں۔ تاہم عام طور پر بچے کڑواہٹ کے حوالے سے زیادہ حساس ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ایسی صحت بخش غذاؤں سے دور رہ سکتے ہیں اور اہم غذائی فوائد سے محروم ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ییل یونیورسٹی کے پودوں کے جینوم کے ماہر جیفری تھامسن جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے کہا کہ گریپ فروٹ جیسے ترش پھلوں سے کڑواہٹ کو ختم کرنا ایک ایسی خصوصیت ہے جو ممکنہ طور پر کئی صارفین خاص طور پر جوس استعمال کرنے والوں کے لیے نہایت دلکش ہو سکتی ہے۔
کڑوا ذائقے کی کلید
اس سے قبل ہونے والی تحقیق میں ایک جین 12RhaT کی نشاندہی کی گئی تھی جسے کڑواہٹ کی بنیادی کلید قرار دیا گیا ہے۔
نئی تحقیق جو جریدے The Plant Journal میں شائع ہوئی، میں محققین نے اسی مخصوص جین میں معمولی جینیاتی تبدیلیاں (میوٹیشنز) متعارف کروائیں۔
اس معمولی ترمیم نے پودے کو ایک اہم پروٹین بنانے سے روک دیا، جس کے نتیجے میں کڑوے کیمیکل تقریباً مکمل طور پر ختم ہو گئے۔
تحقیقات میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پودے کے پتوں کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ اس میں کڑوے مرکبات جیسے نارینجین، نیوہیسپریڈین اور پونسیرین قابلِ شناخت مقدار میں موجود نہیں تھے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ مرکبات صرف پتوں میں پائے گئے، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پھلوں میں بھی اسی طرح کے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔
ماہر جیفری تھامسن کے مطابق یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے کیونکہ ترش پھلوں کے درختوں کی نشوونما میں کافی وقت لگتا ہے، اس لیے درخت کو پھل دینے اور جانچ کے لیے کئی سال درکار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس تبدیلی سے پھل کے اندرونی کیمیائی ڈھانچے یعنی گودے اور رس پر کیا اثر پڑے گا۔
غذائی فوائد اور سردی کا اثر
مجموعی اثر کے حوالے سے محققین ابھی تک اس بات کے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ جینیاتی ترمیم پھل کی غذائی خصوصیات کو تبدیل کرتی ہے یا درخت کی مزاحمتی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے۔
جنگلی اقسام کے ترش پھل سردی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں، اس لیے محققین کی اس بات میں دلچسپی بڑھ رہی ہے کہ جنگلی پودوں کو کاشت شدہ ترش پھلوں کے ساتھ ملا کر ایسی نئی اقسام تیار کی جائیں، جو شدید سرد موسم اور سردی کی لہروں کے خلاف زیادہ مزاحمت رکھتی ہوں۔