کیا بچپن کے تجربات ذہانت کو متاثر کرتے ہیں؟ تازہ سائنسی تحقیق
ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچپن میں محرومی کا سامنا کرنے والے افراد کی بالغ عمر میں ذہنی صلاحیتیں نسبتاً کم ہو سکتی ہیں اور ان میں دوسروں پر اعتماد کی سطح بھی کم پائی جاتی ہے۔
یہ تحقیق پروفیسر کرس ڈاسن نے کی جسے جرنل Personality and Social Psychology میں شائع کیا گیا۔ نتائج کے مطابق ذہانت ہمیشہ یکساں سماجی فوائد فراہم نہیں کرتی۔
مطالعے میں بتایا گیا کہ بہتر معاشی اور سماجی پس منظر سے آنے والے افراد میں زیادہ ذہنی صلاحیتیں دوسروں پر اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔
اس کے برعکس جن افراد نے بچپن میں محرومی کا سامنا کیا، ان میں یہی ذہنی صلاحیتیں اعتماد پیدا کرنے میں نسبتاً کم مؤثر ثابت ہوئیں۔
پروفیسر ڈاسن کے مطابق عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ذہانت ہر کسی کے لیے یکساں مثبت نتائج لاتی ہے، لیکن یہ تحقیق اس تصور کو چیلنج کرتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں پروان چڑھنے والے افراد اگرچہ کچھ ذہنی صلاحیتیں حاصل کر لیتے ہیں، مگر وہ صلاحیتیں اعتماد اور سماجی فوائد میں اسی رفتار سے تبدیل نہیں ہوتیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اعتماد معاشرتی تعلقات بنانے، اداروں میں کامیابی حاصل کرنے اور فعال سماجی شمولیت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اگر ابتدائی محرومیاں اس پر اثر ڈالیں تو یہ عدم مساوات کو مزید مضبوط کر سکتی ہیں۔
امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہونے کا رجحان
یہ نتائج ''میتھیو اثر'' کے تصور سے بھی مطابقت رکھتے ہیں، جس کے مطابق زندگی کے آغاز میں زیادہ سہولتیں رکھنے والے افراد نہ صرف بہتر مہارتیں حاصل کرتے ہیں بلکہ پوری زندگی ان سے زیادہ فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔
اس تحقیق میں برطانیہ بھر کے 24 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ بچپن کا ماحول بعد کی عمر میں ذہنی نشوونما اور سماجی رویوں پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔
بچپن کی محرومی سے مراد ایسے حالات تھے ،جن میں والدین میں سے کسی ایک کی غیر موجودگی، واحد والدین کے ساتھ پرورش، فلاحی اداروں میں پرورش، یا ایسے والدین کا ہونا جن کی تعلیمی یا معاشی حیثیت کمزور ہو۔
نتائج کے مطابق جن افراد نے بچپن میں دو یا اس سے زیادہ قسم کی محرومیوں کا سامنا کیا، ان میں بالغ عمر میں دوسروں پر اعتماد کرنے کا رجحان واضح طور پر کم پایا گیا۔
زیادہ اعتماد کرنے والے اور زیادہ تعاون کرنے والے
پچھلی تحقیقات مسلسل یہ ظاہر کرتی ہیں کہ جن افراد کی ذہنی صلاحیتیں زیادہ ہوتی ہیں وہ عموماً دوسروں پر زیادہ اعتماد کرنے والے اور زیادہ تعاون کرنے والے ہوتے ہیں۔
اس کی ایک وضاحت یہ دی جاتی ہے کہ ایسے افراد بہتر طور پر یہ سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اعتماد اکثر سماجی اور معاشی طور پر فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ وہ غیر یقینی حالات میں پائے جانے والے فطری شک یا خوف پر قابو پانے کی زیادہ صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
مشکل اور سخت ماحول
پروفیسر ڈاسن کے مطابق مستحکم اور معاون ماحول میں زیادہ ذہنی صلاحیت رکھنے والے افراد کے لیے یہ سیکھنا آسان ہوتا ہے کہ اعتماد ایک فائدہ مند سماجی حکمتِ عملی ہے اور دوسروں کے ساتھ تعاون عموماً مثبت نتائج دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور غیر مستحکم ماحول میں، جہاں جرائم، عدم استحکام یا غیر قابلِ اعتماد اداروں کا سامنا زیادہ ہو، وہاں یہ سیکھنے کے مواقع کم ہو جاتے ہیں کہ اعتماد فائدہ مند ہے۔
ایسے حالات میں ذہانت کے لیے یہ امکان بھی کم ہو جاتا ہے کہ وہ اعتماد میں تبدیل ہو سکے۔ ابتدائی مشکلات طویل مدتی ذہنی دباؤ اور اضطراب پیدا کر سکتی ہیں، جو سماجی زندگی میں ذہنی صلاحیتوں کے اظہار کو محدود کر دیتے ہیں۔
کامیابی اور خوشحالی کی بنیاد
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اعتماد کامیاب معاشروں، معاشی ترقی، جرائم کی کم شرح اور سماجی تعاون کی ایک اہم بنیاد ہے۔
اس تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ دنیا بھر میں اسی طرح کے رجحانات موجود ہیں۔ زیادہ آمدنی والے ممالک میں ذہنی صلاحیت اور اعتماد کے درمیان مضبوط تعلق دیکھا گیا، جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں یہ تعلق کافی کمزور تھا۔
بچپن کے حالات کا کہیں زیادہ بڑا کردار
نئی نتائج یہ ظاہر کرتی ہیں کہ بچپن کے حالات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہ افراد کی بعد کی زندگی کے نتائج کو زیادہ گہرائی سے متاثر کر سکتے ہیں۔
تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عدم مساوات کے مسئلے کو صرف تعلیمی کامیابی یا آمدنی تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اس میں بچوں کے جذباتی اور سماجی ماحول کو بھی شامل کرنا ضروری ہے، جس میں وہ پرورش پاتے ہیں۔
پروفیسر ڈاسن نے اختتام پر کہا کہ اگر ہم لوگوں کے بہتر مستقبل کے مواقع بڑھانا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف تعلیمی مہارتوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ محفوظ، مستحکم اور معاون بچپن کے ماحول افراد کو اپنی صلاحیتیں بھرپور طور پر استعمال کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔