ساحل سمندر پر بار بار جانے کی سائنسی وجوہات کیا ہیں

بلیو سپیسز بہتر ذہنی صحت سے منسلک ہیں، مسلسل ذہنی دباؤ سے راحت ملتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

کچھ لوگ شہر میں چھٹیاں گزارنے کے بجائے ساحلی علاقے میں وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں اور جب بھی انہیں موقع ملتا ہے وہ ساحل پر جانے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ یہ لوگ لہروں کے ٹکرانے کی آواز سنتے ہی یا افق پر سمندر کو دیکھتے ہی سکون محسوس کرتے ہیں۔

توجہ کی بحالی کا نظریہ

اخبار ’’ اکنامک ٹائمز‘‘میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق نفسیات یہ اشارہ کرتی ہے کہ یہ معاملہ ساحل سمندر کے محض جنون سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے ساحل سمندر سے محبت کی وجہ سورج کی روشنی، تیراکی یا خوبصورت مناظر ہوتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ساحلی ماحول جدید دور کے دماغ کو وہ چیز فراہم کر سکتا ہے جس کی اسے سخت ضرورت ہوتی ہے۔ یہ چیز مسلسل ذہنی دباؤ سے راحت کا ایک موقع ہے۔ توجہ کی بحالی کا نظریہ ساحل سمندر کی طرف اس کشش کی وضاحت کر سکتا ہے۔

سب سے زیادہ بااثر وضاحتوں میں سے ایک توجہ کی بحالی کا نظریہ ہے جسے ماحولیاتی ماہرینِ نفسیات راچل اور سٹیفن کپلان نے وضع کیا تھا۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں اس چیز کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے جسے محققین ہدایت یافتہ توجہ کہتے ہیں۔ یہ وہ ذہنی کوشش ہے جو لوگ میٹنگز کے دوران توجہ مرکوز کرنے، ای میلز کا جواب دینے، خلفشار کو نظر انداز کرنے، فیصلے کرنے، راستوں پر چلنے اور ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے لیے کرتے ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ، یہ ہدایت یافتہ توجہ تھکن کا شکار ہو جاتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ قدرتی ماحول دماغ پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے۔

نرم مسحور کن حالت

کپلان نے یہ امکان ظاہر کیا کہ فطرت ایک ایسی حالت پیدا کرتی ہے جسے نرم مسحور کن حالت کہا جاتا ہے، لہذا شدید توجہ کی ضرورت کے بجائے ساحل سمندر جیسے ماحول بغیر کسی کوشش کے نرمی سے توجہ کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں دماغ کو ذہنی تھکن سے بحال ہونے کا موقع ملتا ہے۔ طویل عرصے تک ساحل سمندر پر جانے والوں کے لیے یہ نظریہ وضاحت کرتا ہے کہ سمندر کے کنارے چند گھنٹے گزارنا گھر کے اندر پورا دن گزارنے سے زیادہ پرسکون کیوں ہوتا ہے۔

بلیو سپیسز کی اصطلاح

ماہرینِ نفسیات اور پبلک ہیلتھ کے محققین ان ماحولوں کی وضاحت کے لیے "بلیو سپیسز" (نیلی جگہیں) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جہاں پانی نظر آتا ہے۔ ان جگہوں میں سمندر، جھیلیں، ندیاں اور ساحل شامل ہیں۔ گزشتہ دہائی کے دوران تحقیق کے ایک بڑھتے ہوئے سلسلے نے بلیو سپیسز کے سامنے وقت گزارنے اور ذہنی صحت کی بہتری کے درمیان تعلق قائم کیا ہے۔

ماحولیاتی ماہرِ نفسیات میتھیو وائٹ کی قیادت میں 2020 میں کی جانے والی ایک تحقیق، جس کا عنوان "بلیو سپیسز، صحت اور بہبود: ایک بیانیہ جائزہ اور ممکنہ فوائد کا خلاصہ" تھا، نے دکھایا کہ جو لوگ ساحلی ماحول کے قریب زیادہ وقت گزارتے ہیں وہ اکثر بہتر ذہنی صحت اور زندگی سے زیادہ اطمینان کی اطلاع دیتے ہیں۔ محققین نے یہ امکان ظاہر کیا کہ پانی کے ماحول کئی باہم جڑے ہوئے راستوں کے ذریعے ذہنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں:

1۔ جسمانی سرگرمی میں اضافہ (پانی کے قریب پیدل چلنا، تیرنا یا زیادہ حرکت کرنا)

2۔ نفسیاتی راحت (ذہنی تھکن اور تناؤ میں کمی)

3۔ سماجی تعامل (سمندر کے کنارے اکثر لوگوں کو اکٹھا ہونے اور تفریح کی ترغیب دیتے ہیں)

4۔ ماحولیاتی اثرات (ہوا کا معیار اور جمالیاتی اطمینان)۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مطالعہ کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ بلیو سپیسز گرین سپیسز (جیسے پارک اور جنگلات) سے مماثلت رکھتی ہیں لیکن شاید پانی کے ماحول کے اپنی حسی خصوصیات اور جذباتی لگاؤ کی وجہ سے منفرد نفسیاتی اثرات ہوتے ہیں۔

ایک انوکھا امتزاج

بہت سے لوگ ساحل پر پہنچتے ہی سکون محسوس کرنے کی اطلاع دیتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ کا ایک حصہ حسی تجربات کا انوکھا امتزاج ہو سکتا ہے۔ لہروں کی آواز تال دار اور قابلِ پیش گوئی ہوتی ہے۔ افق وسعت کا احساس دلاتا ہے اور پانی کی حرکت توجہ کو تھکائے بغیر اپنی طرف راغب کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ٹریفک، خبروں اور ہجوم والے شہری ماحول کے برعکس ساحل سمندر ذہنی کوشش کی نسبتاً کم سطح فراہم کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں سمندر دماغ پر سوچنے کا بوجھ کم کر دیتا ہے۔

ذہنی کوشش میں یہ کمی اس بات کی وضاحت کر سکتی ہے کہ لوگ پانی کے قریب وقت گزارنے کے بعد اکثر ہلکا پھلکا، پرسکون اور ذہنی طور پر صاف محسوس کرتے ہیں۔

جگہ سے لگاؤ کا تصور

اس تناظر میں جگہ سے لگاؤ کا نظریہ کہتا ہے کہ ساحل سمندر شناخت کا حصہ بن سکتے ہیں اور کچھ لوگوں کے لیے یہ تعلق محض آرام کرنے سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات ایک ایسے تصور کا مطالعہ کرتے ہیں جسے "جگہ سے لگاؤ" کہا جاتا ہے۔ یہ نظریہ اس جذباتی بندھن کی طرف اشارہ کرتا ہے جو لوگ مخصوص جگہوں کے ساتھ استوار کرتے ہیں۔ کچھ جگہیں خاندانی یادوں، بچپن کے تجربات اور زندگی کے اہم واقعات، یا تعلق کے احساسات سے جڑی ہوتی ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ ساحل سمندر محض ایک سیاحتی مقام سے بڑھ کر انسان کی شناخت کا حصہ بن سکتا ہے۔ اور یہ اس بات کی وضاحت کر سکتا ہے کہ کیوں کچھ افراد سال بہ سال ساحل کے اسی حصے پر واپس آتے ہیں۔ یہاں تک کہ سفر کے دیگر لاتعداد اختیارات موجود ہونے کے باوجود لوگ ساحل پر آنے کو اختیار کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں