دنیا کے امیر ترین ممالک، پیمائش کا طریقہ بدلنے سے رینکنگ بھی تبدیل

اوسط دولت کے حساب سے سوئٹزرلینڈ، امریکہ اور لکسمبرگ ، وسطی دولت کے طریقے سے لکسمبرگ، بیلجیئم اور آسٹریلیا ٹاپ تھری ممالک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سوئس بینک کے بڑے ادارے ’’ یو بی ایس ‘‘ کی جانب سے جاری کردہ گلوبل ویلتھ رپورٹ 2026 کے اعداد و شمار نے انکشاف کیا ہے کہ اس سوال کا جواب دینا کہ دنیا کے امیر ترین ممالک کون سے ہیں؟ اتنا سیدھا نہیں ہے جتنا نظر آتا ہے۔

ممالک کی درجہ بندی اس بنیاد پر نمایاں طور پر تبدیل ہو جاتی ہے کہ آیا دولت کی پیمائش فی بالغ فرد کی اوسط دولت سے کی جا رہی ہے یا وسطی دولت (میڈین) سے کی جارہی ہے۔ وسطی دولت کا حساب اس ہندسے سے کیا جاتا ہے جو ڈیٹا کو نزولی یا صعودی ترتیب دینے کے بعد بالکل درمیان میں آتا ہے۔ یہ صرف دولت کے کل حجم کے بجائے آبادی کے درمیان اس کی تقسیم کی حد کو ظاہر کرتا ہے۔

سوئٹزرلینڈ فی بالغ فرد اوسط دولت کے لحاظ سے تقریباً 9 لاکھ 10 ہزار ڈالر کے ساتھ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا۔ اس کے بعد امریکہ 6 لاکھ 96 ہزار ڈالر کے ساتھ دوسرے اور پھر لکسمبرگ 6 لاکھ 55 ہزار ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ ہانگ کانگ اور سنگاپور بھی عالمی مالیاتی مراکز میں مالیاتی اثاثوں اور بڑی دولت کے ارتکاز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ابتدائی پوزیشنوں میں شامل رہے۔

لیکن جب وسطی دولت یعنی میڈین پر انحصار کیا جائے، جو معاشرے میں عام فرد کی دولت کی سطح کو ظاہر کرتی ہے، تو تصویر مختلف نظر آتی ہے۔ اوسط دولت کی جگہ وسطی دولت سے پیمائش کی جائے تو اس صورت میں لکسمبرگ فی بالغ فرد 3 لاکھ 94 ہزار ڈالر کی وسطی دولت کے ساتھ پہلے نمبر پر آ جاتا ہے، اس کے بعد بیلجئیم 2 لاکھ 77 ہزار ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے اور پھر آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ڈنمارک کا نمبر آتا ہے۔

اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اوسط دولت محدود تعداد میں امیر لوگوں کی موجودگی کے نتیجے میں نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے کیونکہ امیر لوگوں کے پاس اثاثوں کا ایک بہت بڑا حصہ موجود ہوتا ہے۔ جبکہ وسطی دولت معاشرے کے مختلف طبقات میں دولت کے پھیلاؤ کی حد کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی وجہ سے بیلجئیم، ڈنمارک اور لکسمبرگ جیسے ممالک نے گھروں کی ملکیت کی بلند شرح اور آبادی کے درمیان بچتوں اور پنشن اثاثوں کے پھیلاؤ کی بدولت اعلیٰ پوزیشنیں حاصل کرلیں۔

اس رپورٹ میں سامنے آنے والے سب سے نمایاں تضادات میں سے ایک یہ ہے کہ اوسط دولت کی پیمائش کے حساب سے امریکہ عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر ہے اور وسطی دولت پر انحصار کرنے کی صورت میں وہ اٹھائیسویں نمبر پر چلا جاتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امریکی خاندانوں کی دولت کا ایک بڑا حصہ امیر ترین طبقات کے پاس مرکوز ہے۔

اس کے برعکس اوسط دولت سے وسطی دولت سے حساب کرنے پر کینیڈا اور جاپان جیسے ممالک نے درجہ بندی میں نمایاں چھلانگیں لگا کر بلندی حاصل کی ہے۔ کینیڈا وسطی دولت کے مطابق ساتویں نمبر پر آ گیا اور جاپان دسویں نمبر پر پہنچ گیا۔ حالانکہ اوسط دولت کی پیمائش کے وقت جاپان صرف چوبیسویں نمبر پر تھا۔

عرب ممالک کا کیا حال ہے؟

اعداد و شمار نے انفرادی دولت کے مطابق امیر ترین ممالک کی فہرست میں عرب ممالک کی محدود موجودگی کو ظاہر کیا۔ قطر فی بالغ فرد اوسط دولت کے لحاظ سے تقریباً 1 لاکھ 89 ہزار ڈالر کے ساتھ عالمی سطح پر 27 ویں نمبر پر رہا۔ متحدہ عرب امارات فی فرد 1 لاکھ 58 ہزار ڈالر کی اوسط دولت کے ساتھ 29 ویں نمبر پر رہا۔ جب وسطی دولت کی پیمائش کی گئی تو قطر فی بالغ فرد 95 ہزار ڈالر کی دولت کے ساتھ عالمی سطح پر 24 ویں نمبر پر رہا اور متحدہ عرب امارات پہلے 30 ممالک میں شامل نہیں رہا۔ یہ نتائج بتاتے ہیں کہ خلیجی معیشتیں اب بھی خطے کے امیر ترین ممالک میں شامل ہیں لیکن وہ لکسمبرگ، سوئٹزرلینڈ اور بیلجئیم جیسے بڑے یورپی مالیاتی مراکز کی ریکارڈ کردہ سطحوں سے بہت دور ہیں۔

یہ موازنہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ دولت بنانے میں ممالک کی کامیابی کا تعلق صرف معیشت کے حجم یا ارب پتیوں کی تعداد سے نہیں ہے بلکہ شہریوں کے درمیان اثاثوں اور بچتوں کے پھیلاؤ کی حد سے ہے۔ اسی لیے لکسمبرگ، بیلجئیم اور نیوزی لینڈ جیسے چھوٹے ممالک نے عام شہری کے نقطہ نظر سے دولت کی پیمائش کیے جانے پر بہت بڑی معیشتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ صرف اوسط دولت کو دیکھنا اقتصادی خوشحالی کی گمراہ کن تصویر پیش کر سکتا ہے۔ اوسط دولت اور وسطی دولت کا امتزاج اس بات کا زیادہ درست فہم فراہم کرتا ہے کہ دولت کیسے تقسیم ہے اور معاشروں کے اندر حقیقی ویلفیئر کی سطح کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں