سعودی عرب کے وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر توفیق ربیعہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال مشاعر مقدسہ میں بجلی کی فراہمی میں 75 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے، تاکہ مناسکِ حج کے دوران حجاج کرام کو بہتر سہولیات میسر آئیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزارتِ حج و عمرہ نے رواں سال طبی عملے کی تعداد بھی دگنی کر دی ہے تاکہ ممکنہ طبی ضروریات کو مؤثر طور پر پورا کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ حجاج کرام کو بلند ترین سطح کی سہولیات فراہم کر کے ان کی مکمل اطمینان حاصل کریں"۔
وزیر حج نے مزید کہا کہ شدید گرمی کے پیش نظر رمی جمرات کا عمل شام 4 بجے کے بعد شروع کرایا جا رہا ہے تاکہ حجاج کرام دھوپ سے محفوظ رہیں۔ اس مقصد کے تحت وزارت نے تمام حجاج کی رمی کے لیے تفصیلی شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کے ذریعے ایامِ تشریق کے دوران حجاج کی نقل و حرکت کو محفوظ، منظم اور روان رکھا جا سکے۔
یہ تمام انتظامات ایک جامع حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت وزارت حج نے رواں سال کے حج 1446ھ کے لیے ایک مربوط ماڈل تیار کیا ہے۔ اس ماڈل کے تحت "مرکزِ تفویج و آپریشنز" کے ذریعے تمام سروس اور سکیورٹی اداروں کو باہم مربوط کیا گیا ہے، جو اس سال حجاج کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے ایک نمایاں پیش رفت ہے۔
شیڈول اس انداز سے مرتب کیا گیا ہے کہ وہ حجاج کی رہائش گاہوں، ان کے نقل و حمل کے راستوں اور دستیاب ٹرانسپورٹ جیسے کہ مخصوص بسوں اور مشاعر ٹرین کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے منظم اور محفوظ رمی جمرات کو یقینی بنائے۔
ہفتے کے روز یعنی ایامِ تشریق کے پہلے دن حجاج کرام مشعر منیٰ میں مقیم ہیں اور تینوں جمرات جمرہ صغریٰ، جمر ہ وسطیٰ اور جمرہ عقبہ کے کنکریاں مارنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وزارت حج و عمرہ نے بتایا ہے کہ اب تک "نسک" اسمارٹ کارڈ کے ذریعے 55 لاکھ سے زائد بار الیکٹرانک اسکیننگ کی جا چکی ہے جو کہ حجاج کی نقل و حرکت کو منظم کرنے اور سکیورٹی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اپنائی گئی جدید ٹیکنالوجی کا حصہ ہے۔