آئندہ جمعہ کے روز جنیوا میں امریکی ایرانی معاہدے پر دستخط کے لیے متوقع وفود کے بارے میں صورت حال با ضابطہ طور پر واضح ہو گئی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ اور سرکاری میڈیا نے ان وفود کی شناخت ظاہر کر دی ہے جو دستخط کی پہلی تقریب اور بات چیت کا انتظام کریں گے۔
ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے، جبکہ امریکی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس نمائندگی کریں گے۔
عراقچی معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد جنیوا میں شروع ہونے والے وسیع تر تکنیکی مذاکرات کے پہلے دور میں شرکت کریں گے۔
مصادر العربية إنجليزي:
— العربية (@AlArabiya) June 17, 2026
. أميركا ستصدر إعفاءات لصادرات النفط الإيراني فور توقيع الاتفاق
. إعلان كل الأطراف إنهاءً فورياً ودائماً للحرب على جميع الجبهات بما في ذلك لبنان
. التعهد بالتوصل لاتفاق نهائي خلال 60 يوماً قابلة للتمديد بالتراضي
. تتعهد إيران بإزالة الألغام والمعوقات من… pic.twitter.com/Jy85V5nolp
اگرچہ کئی اخباری رپورٹوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخطی تقریب میں شرکت کے امکان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، لیکن سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس معاملے کو ابھی تک حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔ اس لیے کہ سکیورٹی ماہرین نے اس طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ صدر اور نائب صدر کا ایک ساتھ بیرون ملک قیام سکیورٹی کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔
سوئس وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کی تقریب وسطی سوئٹزرلینڈ کے برگن اشتوک میوزیم میں منعقد ہو گی۔
فوکس نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے تحت تہران کو کوئی بھی فائدہ حاصل کرنے سے پہلے بڑی ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمعہ کو جنیوا میں ہونے والی دستخطی تقریب میں ان کی شرکت کو تہران کے لیے کوئی انعام نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ اس اقدام کا مقصد امریکی عوام کے لیے اچھا نتیجہ حاصل کرنا ہے۔
وینس کے مطابق امریکہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ ایرانی وعدے کتنے سچے یا جھوٹے ہیں.... اور ان کو حقیقی اقدامات میں بدلنے کے حوالے سے تہران کتنا سنجیدہ ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع معاہدے کے مسودے سے جو العربیہ انگلش کو موصول ہوا ہے، تہران کے لیے اقتصادی مراعات کے پیکج کا انکشاف ہوا ہے۔ اس میں تیل اور ایندھن کی فوری فروخت کی اجازت اور 300 ارب ڈالر سے کم مالیت کا فنانسنگ اور ترقیاتی منصوبہ شامل ہے۔ اس کے بدلے ایران کو جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی سے متعلق وعدے پورے کرنے ہوں گے۔
پہلی شق کے تحت تمام فریق لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کریں گے اور کسی بھی نئی دشمنی کا ارتکاب نہ کرنے کا عہد کریں گے۔
دونوں فریق زیادہ سے زیادہ 60 دنوں کی مدت کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے بات چیت کرنے کا عہد کریں گے، جسے باہمی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ ایرانی تیل کی فروخت کے لیے فوری استثنا جاری کرے گا، جس کے بعد ایران کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے مطابق پابندیوں میں نرمی کا عمل شروع ہو گا۔
معاہدے کے متن کے مطابق امریکہ نئی پابندیاں نہ لگانے اور ایران کے اطراف سے اپنی افواج کو واپس بلانے کا عہد کرتا ہے، لیکن یہ عمل حتمی معاہدے کے بعد ہو گا۔
اس کے بدلے میں ایران آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں اور رکاوٹیں ہٹانے اور 30 دن کے اندر جہاز رانی مکمل طور پر بحال کرنے کا پابند ہو گا۔ ایران اس بات کا تحریری عہد کرے گا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور افزودہ مواد اور جوہری پروگرام کے مستقبل پر حتمی معاہدے میں تفصیلی بحث کی جائے گی۔
العربیہ اور الحدث کے ذرائع کے مطابق حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایک لازمی قرارداد کے ذریعے منظور کیا جائے گا۔