چھ ماہ کا کھیل... ماہرین نے اسرائیل اور صومالی لینڈ کے درمیان پیش رفت کا راز فاش کر دیا
"اسرائیلی اقدامات ہارن آف افریقہ میں ایسے فرضی وجود پیدا کر رہے ہیں جو استحکام کو کمزور کر رہے ہیں".
صومالیہ کے شمال مغرب میں علیحدگی پسند علاقے "صومالی لینڈ" کی جانب سے بیت المقدس میں سفارت خانہ کھولنے کے اعلان نے مصر، عرب لیگ اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے شدید مذمت کی لہر کو جنم دیا ہے۔ اس لیے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور عالمی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اس پیش رفت نے صومالیہ کو تقسیم کرنے کے اسرائیلی اصرار کے مقاصد پر بنیادی سوالات اٹھا دیے ہیں... جن کا جواب مصری محققین اور عسکری ماہرین نے اس سفارتی کارروائی کے خفیہ جیوسیاسی اہداف کو بیان کرتے ہوئے دیا۔
مصری اکیڈمی برائے اعلیٰ عسکری و تزویراتی مطالعات میں لیکچرر، میجر جنرل اسامہ محمود کبیر نے انکشاف کیا کہ اس منصوبے کا تسلسل اکتوبر 2023 میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کے ساتھ ہی سامنے آنا شروع ہوا۔ اس وقت بنیامین نیتن یاہو نے صومالی لینڈ کے سربراہ کے ساتھ فون پر گفتگو کی تھی اور اسے ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس پر مصر سمیت عالمی برادری نے شدید مذمت کی تھی۔
مصری عسکری ماہر نے مزید بتایا کہ جنوری 2026 میں اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے رسمی تعلقات کو فعال کرنے کے لیے اس خطے کا دورہ کیا۔ اس کے بعد 25 فروری 2026 کو اسرائیلی صدر آئزک ہرتزوگ نے علیحدگی پسند خطے کے پہلے سفیر محمد حاجی کا استقبال کیا، جو بیت المقدس سے اپنے فرائض سر انجام دیں گے۔
میجر جنرل اسامہ کبیر نے وضاحت کی کہ یہ اقدام نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے استحکام کو بگاڑنے کے لیے ہے بلکہ فلسطینی قضیے کے لیے بھی ایک براہِ راست وار ہے، کیونکہ اس کے ذریعے 1967 میں مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تل ابیب اور صومالی لینڈ کے درمیان رابطہ چھ ماہ کے سوچے سمجھے وقفے کے ساتھ ہو رہا ہے اور یہ سب کچھ غزہ، مغربی کنارے، لبنان اور شام کے محاذوں کو گرم رکھنے کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
دوسری جانب مرکز برائے سیاسی مطالعات کے نائب ڈائریکٹر ہانی الجمل نے زور دیا کہ مصر کا موقف صومالیہ کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت میں اٹل ہے۔
ہانی الجمل نے نشان دہی کی کہ اسرائیلی اقدامات افریقہ کے ہارن میں ایسے فرضی وجود پیدا کر رہے ہیں جو استحکام کو کمزور کر رہے ہیں اور بحیرہ احمر کے اہم علاقے میں مصر کے ساتھ براہِ راست اسٹریٹجک محاذ آرائی پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مصر نے 2024 کے اوائل میں ایتھوپیا اور صومالی لینڈ کے درمیان ہونے والے اس غیر قانونی معاہدے کو سختی سے مسترد کر دیا تھا جس میں ایتھوپیا کو بربرہ میں فوجی اڈا اور تجارتی بندرگاہ حاصل کرنے کے بدلے اسے تسلیم کرنا تھا۔
ہانی الجمل نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ تل ابیب اس غیر قانونی تسلیم کو اپنے شرپسند ایجنڈے کے لیے استعمال کر رہا ہے، جن میں فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور ایتھوپیا کی انفرادی سفارتی طاقت مصر کی قیادت میں بننے والے بین الاقوامی اتحادوں کے سامنے محدود اور بے بس رہے گی۔
-
اسرائیل کی غزہ کے شمالی علاقوں میں تسلط بڑھانے کی کوششیں
اسرائیلی فوج کی غزہ شہر کے التفاح محلے میں ٹینکوں کے ساتھ پیش قدمی، کئی خاندان نقل ...
مشرق وسطی -
بیلا روسی صدر کی طرف سے غزہ کی 'ہولو کاسٹ' کا تقابل کرنے پر اسرائیل کو سخت تکلیف
اسرائیلی وزارت خارجہ نے 'العربیہ' کے ساتھ انٹرویو میں بیلا روسی صدر الیگزندر ...
بين الاقوامى -
شاہ سلمان ریلیف سینٹر کا غزہ میں معاشی خود مختاری کا منصوبہ شروع
پروجیکٹ میں اہلیانِ غزہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام شامل ...
مشرق وسطی