.

گھریلو تشدد کی شکار مراکشی خواتین کو مزاروں پر سکون کی تلاش

مراکش میں شرح خواندگی 87 فیصد ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
تیونس میں گھریلو تشدد کا شکار بننے والی خواتین اپنے نفسیاتی گھاؤ بھرنے کے لئے اولیاء اللہ کے درگاہوں میں پناہ تلاش کر رہی ہیں۔

انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق مراکش میں صنف نازک پر ہونے والے مختلف نوعیت کے مظالم میں گھریلو تشدد سب سے نمایاں اور پریشان کن رویہ ہے

خواتین پر جسمانی تشدد، مار پیٹ، تھپڑوں سے تواضع اور زنجیروں میں قید رکھنے جیسے اقدامات کی وجہ سے صنف نازک میں انتہائی خوف اور جسمانی معذروی کا باعث بن رہا ہے۔

چالیس سالہ مراکشی خاتون رقیہ نے دارلحکومت رباط کے قریبی شہر 'سالا' میں حضرت مولی عبداللہ بن حسون کے مزار پر حاضری کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے شوہر کے لئے ہدایت کی دعا کر سکے کہ جو رقیہ کے بہ قول اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنا کر حظ اٹھاتا ہے اور بطور شوہر اور باپ اپنے فرائض کی انجام دہی سے اغماض برت رہا ہے۔

رقیہ نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپنے پیر کے مزار پر حاضری سے مجھے روحانی سکون ملتا ہے۔ وہ اپنے مرشد کی قبر اور اس پر ڈالی رشیمی چادر سے لپٹ کر بہ آواز بلند روتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ اس کا شوہر راہ راست پر لوٹ آئے۔

اپنے شوہر کے مظالم کو "غیرمعمولی" قرار دیتے ہوئے رقیہ کا کہنا تھا کہ اسے دنیا کی کوئی طاقت تبدیل نہیں کر سکتی۔ بہ قول رقیہ اس کے شوہر کا خمیر شاید برائی سے اٹھا ہے۔

کاسابلانکا سے تعلق رکھنے والے ایک اور مراکشی خاتون ام کلثوم نے العربیہ کوبتایا کہ اسے اپنے مرشد 'سیدی بلیوط' کی درگاہ پر ماتھا ٹیک کر 'خوشی' ہوتی ہے۔

ام کلثوم نے مرشد کی کرامات کا ذکر کرتے ہوئے العربیہ کو بتایا کہ میں نے متعدد ماہرین نفسیات کے پاس وقت اور پیسہ برباد کیا لیکن یہ میرے پیر کے معجزے کا کمال ہے کہ میرا شوہر لوٹ آیا۔ ام کلثوم نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ 'سیدی بلیوط' عام لوگوں کی طرح گوشت پوست کے انسان ہیں لیکن ان کے معجزوں اور کرامات سے انکار ممکن نہیں۔

مراکش کی معروف ماہر عمرانیات نے کریمہ الودغیری ملک میں مزاروں پر حاضری کو 'روحانیت کی تلاش' کے سفر سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا مزاروں پر رلنا دراصل جہالت کا مظہر ہے۔

یاد رہے مراکش میں شرح خواندگی شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے تمام ملکوں سے سب سے زیادہ ہے۔ خواندہ لوگوں میں 56 فیصد مرد جبکہ 31 فیصد خواتین ہیں۔