.

ایران کا خلیجی کمپنیوں پر سائبر حملوں میں کردار سے انکار

سعودی ،قطری کمپنیوں کے کمپیوٹرنظام پر وائرس کا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایرانی حکام نے خلیجی ممالک کی تیل اور گیس کمپنیوں کے کمپیوٹر سسٹمز پر حالیہ سائبر حملوں میں کسی قسم کے کردار کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کا خیرمقدم کریں گے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کی رپورٹ کے مطابق قومی مرکز برائے سائبرسپیس کے سیکرٹری مہدی اخوانی بہاآبادی نے اتوار کو ایک بیان میں ایران پر امریکا کی جانب سے سیاسی محرکات کی بنا پر لگائے گئے ان الزامات کی مذمت کی ہے جن میں سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو اور قطر کی قدرتی گیس پیدا کرنے والی کمپنی راس گیس کے کمپیوٹر نظام کو نشانہ بنانے والے شمعون وائرس کا ایران سے تعلق جوڑا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ایران پرسائبر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات سیاسی بنیاد پر لگائے جارہے ہیں اور ان کا امریکی کے داخلی معاملات اور صدارتی انتخابات سے تعلق ہے''۔

واضح رہے کہ شمعون وائرس آپس میں جڑے ہوئے تمام کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کرسکتا ہے اور ان میں موجود تمام فائلوں/ڈیٹا کو ختم کرسکتا ہے۔امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے وزیردفاع لیون پینیٹا کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس نے تیس ہزار سے زیادہ کمپیوٹرز کو ناکارہ کردیا ہے اور یہ اب تک نجی شعبے میں سب سے تباہ کن سائبر حملہ ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکی حکومت کے عہدے داروں نے یقین ظاہر کیا تھا کہ ''خلیجی ممالک کی کمپنیوں پر حملے کرنے والے ہیکروں کو ایرانی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔انھوں نے امریکی ایجنسیوں کی اطلاعات کے حوالے سے کہا کہ جس بڑے پیمانے پر حملہ کیا گیا،اس سے توظاہر ہوتا ہے کہ اس اس واقعہ میں ایک پورا ملک ملوث ہے''۔

ایرانی عہدے دار بہا آبادی نے اپنے بیان میں کہا کہ ''امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ حالیہ سائبر حملوں کے ذریعے کا سراغ لگانے میں کامیاب رہے ہیں۔ہم ان کی تحقیقات کا خیرمقدم کرتے ہیں اور حملوں کے ذریعے کا درست سراغ لگانے کے لیے تحقیقات میں تعاون کرنے کو تیار ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ایران خود حال ہی میں سائبر حملوں کا شکار رہا ہے اور وہ خلیجی کمپنیوں کی سائبر سکیورٹی بڑھانے کے لیے مدد دینے کو بھی تیار ہے''۔ایران امریکا اور اسرائیل پر ان سائبر حملوں کے الزامات عاید کرتا رہا ہے۔

لیکن دوسری جانب انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار ہی کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''صہیونی ریاست کے کمپیوٹر انفرااسٹرکچر پر حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور ہر روز کمپیوٹر نظام میں دراندازی کی کوششیں کی جاتی ہیں''۔

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے ملک کے کس شعبے کے کمپیوٹر نظام کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے یا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس میں کس ملک کا ہاتھ کارفرما ہے۔