.

ایران میں مقیم القاعدہ کے 02 ارکان کی گرفتاری پر 12 ملین ڈالر کا انعام

مطلوب افراد پر القاعدہ کے لیے عطیات جمع کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکی حکومت نے ایران میں مقیم القاعدہ کے دو انتہائی مطلوب ارکان کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر بارہ ملین ڈالر کا انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ القاعدہ کے دونوں جنگجوؤں کا نام سعودی عرب کو بھی مطلوب افراد کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔



امریکی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق القاعدہ کے جنگجو محسن الفضلی اور اس کا نائب عاد راضی صقر الوہابی الحربی طویل عرصے سے ایران میں القاعدہ کے لیے عطیات جمع کر رہے ہیں لیکن ایران میں روپوشی کی وجہ سے ان تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ حکومت نے ان کی گرفتاری کے لیے بارہ ملین ڈالر کا انعام رکھا ہے۔



خیال رہے کہ 31 سالہ محسن الفضلی القاعدہ کے ان محدودے چند عناصر میں سے ایک ہے جنہوں نے گیارہ ستمبر2001ء کو امریکا پر ہونے والے حملوں کی پیشگی اطلاع دی تھی۔ سنہ 2002ء میں کے یمن کی سمندری حدود میں فرانس کے ایک تیل بردار جہاز 'لیمبرگ' پر حملے میں بھی محسن الفضلی ہی کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا اور دوسرے ملکوں میں امریکی مفادات پر ہونے والے کئی دوسرے حملوں میں بھی الفضلی براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث رہا ہے۔ امریکا نے اس کے سر کی قیمت ستر لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔



الفضلی کے ساتھی پچیس سالہ وہابی الحربی کا نام 2011ء میں امریکا کو مطلوب افراد کی فہرست میں اس وقت شامل کیا گیا جب اس کے بارے میں افغانستان میں القاعدہ میں شمولیت اور امریکی فوجیوں پر حملوں کے بارے میں انکشاف ہوا۔ الحربی پر انٹرنیٹ کے ذریعے انتہا پسندی کو فروغ دینے اور القاعدہ میں لوگوں کو شمولیت کی ترغیب دلانےکا الزام ہے۔ واشنگٹن پہلے ہی اس کے سر کی قیمت پانچ لاکھ ڈالرز مقرر کر چکا ہے۔