.

عالمی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے اپنے استعفیٰ کی تردید کردی

بزرگ سفارت کار کے مستعفی ہونے کی قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے مشترکہ ایلچی الاخضرالابراہیمی نے اپنے استعفے کے بارے میں افواہوں کی تردید کردی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ شام میں قیام امن کے لیے اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش نہیں ہورہے ہیں۔

انھوں نے نیویارک میں جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو شام کی صورت حال کے بارے میں بریف کرنے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے اپنی سفارتی ذمے داریوں سے سبکدوش ہونے کے لیے کوئی استعفیٰ نہیں دیا ہے۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران عرب میڈیا میں خاص طور پر یہ افواہیں گردش کرتی رہی ہیں کہ الاخضر الابراہیمی نے مستعفی ہونے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ الاخضر الابراہیمی شام کے لیے صرف اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے ہی مستقبل میں خدمات انجام دیں گے اور ان کا عرب لیگ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا کیونکہ وہ عرب تنظیم کی جانب سے شامی حزب اختلاف کی حمایت اور اس کو نشست دینے سے دلبرداشتہ ہوئے ہیں۔اس اقدام سے ان کی شامی بحران کے حل کے لیے امن کوششوں کو دھچکا لگا ہے اور ان کی غیر جانبدارانہ حیثیت متاثر ہوئی ہے۔

ایک سفارت کار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا:''عالمی ایلچی محسوس کرتے ہیں کہ عرب لیگ کی حکمت عملی سے ان کے لیے اپنے مینڈیٹ کو جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ غیر جانبداری کو برقرار رکھنے کے لیے ان کا صرف اقوام متحدہ سے تعلق ہی کافی ہوگا'' لیکن اب انھوں نے خود ان تمام قیاس آرائیوں کی تردید کردی ہے۔

یادرہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے گذشتہ سال الجزائر کے سابق وزیرخارجہ اور تجربہ کار سفارت کار الاخضرالابراہيمی کو کوفی عنان کی جگہ شام کے لیے عالمی ادارے اور عرب لیگ کا خصوصی ایلچی مقرر کیا تھا۔