.

روسی حکام سے شامی مسئلے پر مذاکرات کے لیے کیری کی ماسکو آمد

پوتن کے دور حکومت میں ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری شام کے مسئلے اور دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کے لیے روس کے دارلحکومت ماسکو پہنچ گئے ہیں۔

اپنے دورے کے دوران کیری روس کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سمیت ماسکو کی شام کے معاملے پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

فروری میں وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے کیری کا یہ روس کا پہلا دورہ ہے۔ ولادی میر پوتن کے تیسری بار صدارت کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات کے درمیان ایک نئی سرد مہری دیکھی گئی ہے۔

منگل کے روز کیری اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں شام کا مسئلہ ممکنہ طور پر مذاکرات کے ایجنڈے میں سب سے نمایاں ہو گا۔ شام میں 26 ماہ سے جاری جنگ سے پورے خطے کو خطرات لاحق ہیں۔

روس شامی صدر بشار الاسد کا اہم ترین اتحادی ہے اور واشنگٹن طویل عرصے سے ماسکو پر زور دے رہا ہے کہ وہ شام میں خون ریزی کے خاتمے کے لیے شامی صدر پر اپنا اثر و نفوذ استعمال کرے۔ دورے کے دوران کیری اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاووروف سے بھی ملاقات کریں گے۔

ماسکو نے شام میں جاری جنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ روسی وزراتِ خارجہ نے شامی علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تشدد کے واقعات نے شام کے پڑوسی ملک لبنان کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

شام کے مسئلے کے علاوہ مذاکرات کے ایجنڈے میں بوسٹن بم حملے میں مبینہ طور پر دو چیچن نژاد شہریوں کے ملوث ہونے سمیت دیگر اہم معاملات پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ امریکی دفاعی نظام، امریکیوں پر روسی یتیم بچے گود لینے پر پابندی اور روسی حکام کی جانب سے غیر سرکاری تنظیموں کو ہراساں کرنے جیسے متنازعہ مسائل بھی مذاکرات کی میز پر آئیں گے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے، ’روس میں شام کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل پر بھی مذاکرات کیے جائیں گے۔‘ امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کو اکثر روسی صدر ولادی میر پوتن سے ملاقات کا موقع نہیں ملتا اور منگل کے روز ہونے والی ملاقات ایک بہترین موقع ہے کہ دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر بات چیت کریں۔

ایک اور امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکا شام کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے پر عزم ہے اور اگر روس بھی یہی چاہتا ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔