.

پاکستان، یمن میں امریکی ڈرون حملے محدود، نئے رہ نما اصولوں کا اعلان

کسی عام شہری کی ہلاکت یا زخمی ہونے کے امکان پر ڈرون حملہ نہیں ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے پاکستان اور یمن سمیت بیرون ملک بغیر پائلٹ جاسوس طیاروں کے جنگجوؤں پر میزائل حملوں کے لیے نئے رہ نما اصولوں کا اعلان کیا ہے جن کے تحت کسی شہری کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کے امکان کی صورت میں اب یہ ڈرون حملے نہیں کیے جاسکیں گے۔

امریکی صدر نے جمعرات کو اپنی تقریر میں کانگریس اور بیرونی دنیا کے دباؤ کے بعد متنازعہ ڈرون پروگرام کو مرکزی خفیہ ادارے (سی آئی اے) کے بجائے فوج کے کنٹرول میں دے دیا ہے اور کیوبا میں واقع بدنام زمانہ عقوبت خانے گوانتاناموبے کو بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

صدراوباما نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اپنی تقریر میں امریکا کو درپیش خطرات کے حوالے سے اظہار خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ القاعدہ اب کمزور ہوچکی ہے اور وہ افغانستان میں امریکا کی قیادت میں لڑی جانے والی جنگ کے خاتمے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔تاہم انھوں نے کہا کہ ''امریکا اس وقت چوراہے پر کھڑا ہے۔میں یا کوئی بھی اور صدر دہشت گردی کو مکمل شکست دینے کا وعدہ نہیں کرسکتا۔''

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''ہم جو کچھ کرسکتے ہیں اور جو ہمیں کرنا چاہیے،وہ یہ کہ براہ راست خطرے کا موجب نیٹ ورکس کو ہم تہس نہس کردیں اور نئے گروپوں کو قدم جمانے کا موقع نہ دیں لیکن اس تمام عمل میں ہمیں ان آزادیوں اور نظریات کو برقرار رکھنا چاہیے جن کا ہم دفاع کرتے چلے آرہے ہیں''۔

انھوں نے کانگریس کے ارکان کی جانب سے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے حملوں کی قانونی حیثیت اور عام لوگوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات پر کڑی تنقید کے بعد آیندہ ڈرون حملوں کے لیے نئے ضوابط کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''میرے اور میری چین آف کمان میں شامل لوگوں کے لیے یہ ہلاکتیں پریشانی کا موجب ہوں گی جب تک کہ ہم زندہ ہیں۔اب کسی حملے سے قبل اس بات کویقینی بنانا ہوگا کہ کوئی شہری ہلاک یا زخمی نہیں ہوگا اور یہی اعلیٰ معیار ہے جو ہم مقرر کرسکتے ہیں''۔

ان کا اشارہ ڈرون حملوں میں عام لوگوں کی ہلاکت کی جانب تھا کیونکہ پاکستان میں خاص طور پر امریکی سی آئی اے کے ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد ماری گئی ہے۔ان ہلاکتوں کی وجہ سے امریکا کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے بھی کڑی تنقید کا سامنا ہے اور پاکستانی عوام میں امریکا مخالف شدید جذبات پائے جاتے ہیں۔

اس تقریر سے قبل براک اوباما نے ڈرون حملوں کے لیے ''صدارتی پالیسی رہ نما اصول'' نامی کتابچے پر دستخط کیے ہیں۔اب کسی بھی جگہ حملوں کے لیے اس کتابچے میں وضع کردہ معیار کے تحت ہی بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کو حرکت دی جائے گی۔

امریکی حکام کے مطابق صدر کی منظور کردہ اس گائیڈ لائن کے تحت اگر ہدف بنائے جانے والے لوگوں کو امریکی یا غیرملکی حکومتیں گرفتار کرسکتی ہوں تو ایسی صورت میں ڈرون حملے نہیں کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ امریکی سی آئی اے یمن اور پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں کی بیخ کنی کے لیے ڈرون حملے کررہی ہے اور حالیہ برسوں میں دراصل ڈرونز کو القاعدہ کے خلاف ایک بڑے اور موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔صدر اوباما نے اپنی تقریر میں بھی اس پہلو کا حوالہ دیا ہے کہ میزائل حملے القاعدہ کا قلع قمع کرنے میں فوجی کارروائی کے بجائے زیادہ موثر ہتھیار ثابت ہوئے ہیں۔

اب امریکی صدر کے وضع کردہ نئے اصولوں کے باوجود پاکستان میں خاص طور پر حملوں کے لیے ڈرون پروگرام کا کنٹرول سی آئی اے کے پاس ہی رہے گا کیونکہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے وقت دونوں ممالک کے درمیان واقع سرحدی علاقے میں القاعدہ کے دوبارہ سے سر اٹھانے کا واویلا کیا جاسکتا ہے اور اس تنظیم کے جنگجو پسپائی اختیار کرتے امریکی فوجیوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بناسکتے ہیں۔

یمن میں سی آئی اے اور امریکی فوج دونوں ہی القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف ڈرون استعمال کررہی ہیں۔سی آئی اے کے ڈرون سعودی عرب میں ایک خفیہ بیس سے اڑان بھرتے ہیں اور یمن کے شمالی علاقے میں حملے کرتے ہیں جبکہ امریکی فوج کے ڈرون جبوتی سے یمن میں القاعدہ کے جنگجوؤں پرحملوں کے لیے آتے ہیں۔