.

مغرب آدم خور شامی باغیوں کو مسلح نہ کرے: روسی صدر کا انتباہ

شامی تنازعے کے دونوں فریقوں کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے شامی تنازعے کے حوالے سے مغرب کے موقف پر ایک مرتبہ پھر تنقید کی ہے اور مغربی ممالک کی جانب سے ان کے بہ قول انسانی اعضاء کھانے والے شامی باغیوں کو مسلح کرنے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔

روسی صدر نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ اتوار کو لندن میں ملاقات کے بعد نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''میرے خیال میں آپ اس بات سے انکار نہیں کریں گے کہ کسی کو ایسے لوگوں کی حمایت کی ضرورت نہیں ہے جو نہ صرف اپنے دشمنوں کو قتل کررہے ہیں بلکہ ان کی لاشوں کی چیر پھاڑ کرکے ان کے اعضاء بھی کھا رہے ہیں''۔

پوتین نے سوال کیا کہ ''کیا آپ ان لوگوں کی حمایت کرنے جارہے ہیں،کیا آپ ایسے لوگوں کو ہتھیار مہیا کرنا چاہتے ہیں؟''۔وہ انٹرنیٹ پر جاری کردہ ایک ویڈیو کا حوالہ دے رہے تھے جس میں ایک باغی جنگجو ایک سرکاری فوجی کا سینہ چیر کر اور اس کا دل نکال کر کھا رہا ہے۔تاہم روسی صدر کا کہنا تھا کہ شامی تنازعے کے دونوں فریقوں کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ولادی میر پوتین سے بات چیت کے بعد کہا کہ روس اور برطانیہ شامی تنازعے کے حوالے سے اپنے اختلافات کا خاتمہ کرسکتے ہیں لیکن ایسا تب ممکن ہے جب ہم اس بات کو تسلیم کریں کہ ''تنازعے کا خاتمہ ہونا چاہیے ،ہمیں شام کی ٹکڑوں میں تقسیم کے عمل میں روکنا چاہیے اور شامی عوام کو اس بات کا فیصلہ کرنے کی اجازت دیں کہ ان کا حکمراں کون ہونا چاہیے۔نیز انتہا پسندوں کے خلاف جنگ لڑیں اور ان کو شکست دیں''۔

روسی صدر کا امریکا کی جانب سے گذشتہ جمعرات کو شامی باغیوں کو مسلح کرنے کے فیصلے پر یہ پہلا سخت ردعمل ہے جبکہ یورپی یونین کے رکن ممالک نے بھی حال ہی میں شامی باغیوں پر عاید پابندیاں نرم کی ہیں۔روس کا یہ موقف رہا ہے کہ شامی باغیوں کو مسلح کرنے سے تنازعہ طول پکڑ جائے گا اور اس سے خطے کے دوسرے ممالک میں بھی خونریزی پھیلے گی۔