قطر کے تعمیراتی منصوبوں سے وابستہ مزدروں کا استحصال: گارجیئن

دوحہ سے نیپالی سفیر مایا کماری شرما کھٹمنڈو واپس بلا لی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

خلیجی ریاست قطر میں 2022 ء میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں آئے ہوئے درجنوں نیپالی مزدور ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں مزید مزدوروں کو لیبر کیمپوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جس سے قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

برطانوی اخبار 'گارجیئن" کی حالیہ اشاعت میں شامل ایک رپورٹ کے مطابق نیپال کے چالیس تارکین وطن مزدور حالیہ ہفتوں میں ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ کام کرنے والوں کو پینے کا مفت پانی اور دیگر بنیادی ضرورتیں بھی فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے: "حالیہ گرمیوں میں قطر میں روزانہ کی بنیاد پر ایک نیپالی کارکن ہلاک ہوا ہے۔ان میں ایک کثیر تعداد نوجوان کارکنوں کی ہے، جو اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوئے۔ تحقیقات سے اس بات کے بھی شواہد ملے ہیں کہ ہزاروں نیپالیوں کو ایسے حالات اور مشکلات کا سامنا ہے جو عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے تحت "جدید دور کی غلامی" کے زمرے میں آتے ہیں۔ نیپالی قطر میں ورلڈ کپ کی تیاریوں میں مصروف غیرملکی تارکین وطن کا سب سے بڑا گروہ ہیں۔

"گارجیئن" نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے دوحہ میں قائم نیپال کے سفارتخانے سے ایسی دستاویزات ملی ہیں جن سے ظاہر ہوا ہے کہ کم از کم چوالیس کارکن چار جون سے آٹھ اگست کے دوران ہلاک ہوئے، جن میں سے نصف سے زیادہ افراد دل کا دورہ پڑنے یا کام کرنے کی جگہوں پر پیش آنے والے مختلف حادثوں کے سبب ہلاک ہوئے۔

ادھر قطر میں تعینات نیپال کی خاتون سفیر مایا کماری شرما کو ان کی طرف سے خیلج کی اس ریاست کو وہاں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ’ایک کھلی جیل‘ قرار دیے جانے کے بعد کھٹمنڈو حکومت نے واپس بلا لیا ہے۔

مایا کماری شرما کی طرف سے یہ بیان اگرچہ چھ ماہ قبل دیا گیا تھا تاہم برطانوی اخبار 'گارجیئن' کی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے ساتھ اس بیان کے دوبارہ شائع ہونے کے بعد نیپالی حکومت نے مایا کماری شرما کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

درایں اثنا فٹ بال کے منتظم عالمی ادارے فیفا نے کہا ہے کہ وہ قطر میں حالات کار کے ناسازگار ہونے کے حوالے سے متعدد بین الاقوامی مزدور تنظیموں اور لیبر گروپوں سے مشاورت کر رہا ہے۔ فیفا کے مطابق قطر نے لیبر قوانین میں اصلاحات کے حوالے سے وعدے بھی کیے ہیں تاکہ وہاں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

ہر سال ہزاروں نیپالی باشندے روزگار کی تلاش میں بیرونی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کی منزل خلیجی ممالک یا جنوب مشرقی ایشیائی ریاستیں ہوتی ہیں۔ کھٹمنڈو حکومت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق صرف قطر میں ہی تین لاکھ نیپالی کارکن کام کاج کی غرض سے مقیم ہیں۔

ان الزامات سے قطری رہنماؤں کی جانب سے نیپالی دیہات میں بسنے والوں کے استحصال کے اشارے ملتے ہیں۔ اس معاملے کی مکمل تصویر سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے دنیا کے امیر ترین ملکوں میں سے ایک قطر، دنیا کے غریب ترین ملکوں میں سے ایک، نیپال کے غریب اور مجبور کارکنوں کا استحصال کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں