.

سوڈان: موجودہ نظام کے تحت امہ پارٹی کسی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی

"حکومت نےاصلاحات نہ کیں توعوام کو سڑکوں پر لے آئیں گے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت "امہ" پارٹی نے واضح کیا ہے کہ ملک پرمسلط موجودہ نظام حکومت کے ہوتے ہوئے جماعت کسی نئی حکومت میں شامل نہیں ہوگی۔ اُمہ پارٹی نے صدرعمرالبشیر اوران کی جماعت نیشنل کانگریس کوخبردارکیا ہے کہ وہ نظام حکومت میں جوہری اصلاحات لائیں ورنہ ان کے خلاف عوامی تحریک چلائی جائے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند دنوں سے سوڈانی میڈیا میں یہ اطلاعات آ رہی تھیں کہ اپوزیشن کی امہ پارٹی اورحکمراں جماعت نیشنل کانگریس کے درمیان کوئی خفیہ ڈیل ہوچکی ہے۔ تاہم اس کی تصدیق یا تردید کسی فریق کی جانب سے سامنے نہیں آئی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اتوار کے روز حزب الامہ کی جانب سے خاموشی توڑتے ہوئے ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے ساتھ کوئی ڈیل ہوئی ہے اور نہ ہی آئندہ اس کا کوئی امکان ہے۔ کیونکہ موجودہ نظام حکومت کے ہوتے ہوئے امہ کسی بھی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔

امہ پارٹی نے ذرائع ابلاغ پر جانب داری کا الزام عائد کرتےہوئے کہا کہ میڈیا من گھڑت خبریں شائع کر کے کنفیوژن کی فضاء پیدا کر رہا ہے۔ امہ پارٹی کا موقف دو ٹوک اور واضح ہے۔ امہ پارٹی کسی کے کہنے یا اکسانے پر حکومت میں شامل نہیں ہوگی۔

جماعت کی جانب سے واضح کیا گیا کہ حکمراں جماعت نیشنل کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جومذاکرات جاری ہیں وہ ایک نئے نظام حکومت اورایک نئے سیاسی میثاق کی تیاری کے لیے ہیں۔ ہم ایک ایسا سیاسی نظام لانا چاہتے ہیں جس میں نہ توکسی کو محروم کیا جائے گا اور نہ ہی پورے ملک پر کسی ایک گروپ کی بالادستی ہو گی۔ اگر اپوزیشن جماعتیں حکمراں طبقے کو قائل کرنے میں ناکام رہیں توہمارے پاس آخری حربہ عوام کو لے کر سڑکوں پرنکلنا ہوگا۔ ہم نے حکومت کو اس کی وارننگ پہلے ہی دے دی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اُمہ پارٹی نئے سیاسی میثاق کی بانی جماعت ہوگی کیونکہ اس کا تخیل امہ ہی کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، جسے دیگر اپوزیشن دھڑوں نے بھی قبول کیا ہے۔ جماعت پچھلے ایک سال سے اس مقصد کے لیے کوشاں ہے۔ توقع ہے کہ حکمراں جماعت کو ہماری تجاویز قبول ہوں گی اور ملک میں ایک نئی عوامی تحریک اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔