.

فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ فوجی مشقیں جاری

پہاڑی جنگوں کے لیے سعودی فوج بہترین قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوب مغرب میں السروات کی پہاڑی چوٹیوں پرریاض اور فرانس کی مشترکہ فوج مشقیں جاری ہیں۔ فوجی مشقوں کے دوران فضائی اور زمینی حملوں کے تجربات کے ساتھ ساتھ پہاڑی علاقوں میں جنگ کے مختلف پہلوؤں پر مشقیں کی جا رہی ہیں۔

سعودی عرب کی بری فوج کے ڈپٹی کمانڈر میجرجنرل فہد بن ترکی بن عبدالعزیزآل سعود نے بتایا کہ فرانس اور سعودی عرب کی مسلح افواج کی جنگی مشقوں کا مقصد ایک دوسرے کے دفاعی تجربات سے استفادہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانسیسی فوج کی جانب سے مکمل منصوبہ بندی اور بھرپور طریقے سے جنگی مشقوں میں شرکت کی جا رہی ہے۔

رواں ہفتے "الریک" مشق جاری رہے گی جس میں پہاڑی اور دشوار گذار علاقوں میں جنگ لڑنے کے مختلف طریقوں پر تجربات کیے جا رہے ہیں۔ پیش آئند ہفتےتبوک کے مقام پر "النیزک" مشقیں ہوں گی جس میں فرانس اور سعودی عرب کے چھاتہ بردار دستے حصہ لیں گے۔ جنرل فہد نے بتایا کہ سعودی عرب جلد ہی اردن اور امریکا کے ساتھ بھی الگ الگ مشترکہ فوجیں مشقی کرے گا۔

سعودی فوج بہترین جبلی سپاہ قرار

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنوب مغربی سعودی عرب میں جاری فوجی مشقوں میں شریک فرانسیسی فوجی افسرکریسٹن فوڈیوم نے سعودی عرب کی مسلح افواج کی جنگی مہارت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی افواج پہاڑی اور دشوار گذار علاقوں میں جنگ کا جو تجربہ رکھتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ سعودی فوجی افسروں اور سپاہیوں نے نہایت پیشہ وارنہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اسلحہ کا درست استعمال کیا ہے بلکہ وہ وہ مزید مہارت کے لیے فرانسیسی فوجیوں سے بھرپور استفادہ بھی کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ الباحہ کے پہاڑی علاقوں میں جاری فوجی مشقوں کی نگرانی اور سیکیورٹی کے لیے بغیر پائلٹ کے ڈرون طیاروں کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔ جنگی مشقوں میں سعودی فوجی اپاچی ہیلی کاپٹروں سے دشمن کے فرضی ٹھکانے تباہ کرنے کی مشقیں کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کے جنوب مغرب میں پھیلے شمرخ، الریک اور الباحہ کے پہاڑی سلسلے جنگی مشقوں کے لیے نہایت موزوں خیال کیے جاتے ہیں۔ ماضی میں سعودی عرب کی فوجیں ان پہاڑوں میں مشقیں کرتی رہی ہیں۔