قاہرہ سے بے دخل سابق ترک سفیر مصری شہزادی کے شوہر نکلے

فواد طوغائے کو جمال عبدالناصر کی توہین کےالزام میں ملک بدر کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر اور ترکی کے درمیان تازہ سیاسی کشیدگی جہاں ایک دوسرے کے سفیروں کی ملک بدری کا موجب بنی، وہیں قاہرہ سے 1954ء میں بے دخل ہونے والے سابق ترک سفیر فواد طوغائے کی زندگی کے اہم گوشے بھی سامنے آئے ہیں۔

ہفتے کے روز قاہرہ نے اپنے ہاں تعینات ترک سفیر حسین عونی بوصطالی کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کرملک سے نکال دیا، اس کےجواب میں انقرہ نے مصری سفیر واپس اس کے ملک بھیج دیا۔ حسین عونی ترکی کے پہلے سفیر نہیں جنہیں قاہرہ سے نکالا گیا بلکہ اس سے پہلے فواد طوغائے کو نصف صدی قبل سابق صدر جمال عبدالناصر کی مبینہ توہین کے الزام میں نکالا گیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے فواد کی زندگی کے بارے میں معلومات جمع کیں تو معلوم ہوا کہ وہ مصرکے شاہی خانوادے سے تعلق رکھنے والی شہزادی کے شوہر بھی تھے۔ ان کی اہلیہ شہزادی امینہ مختار مصری فرمانروا خدیوی اسماعیل کی نواسی، شاہ فواد کی ہمشیرہ، ملکہ نعمت اللہ کی صاحبزادی اور شاہ فاروق کی رشتے میں بھتیجی تھی۔

سنہ 1891ء میں استنبول میں پیدا ہونے والے فواد طوغائے کو سنہ 1925 سے 1929ء تک جاپان میں بطور سفیر تعینات کیا گیا۔ ان کے والد ڈلی فواد پاشا طوغائے خلافت عثمانیہ کے دور میں جرمنی اور آسٹریا میں سفیر رہے ہیں۔

حال ہی میں قاہرہ سے بے دخل کیے گئے ترک سفیر حسین عونی بوصطالی اور فواد طوغائے میں بہت سے قدریں مشترک ہیں۔ حسین عونی کئی سال تک مصر میں ترکی کے سفیر رہے۔ وہ ایک کلین شیو اور نسبتا لبرل شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ تاہم مصرمیں اخوان المسلمون کی حکومت کے قیام کے بعد مسٹرحسین بوصطالی نے داڑھی رکھ لی تھی۔

تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فواد طوغائے کی مصری شہزادی سے صرف اسعد نامی ایک بیٹا ہوا۔ سنہ 1929ء سے 1932ء تک وہ مشرقی چین میں کے شہر'نانجینگ' میں ترکی کے قونصل جنرل رہے۔ سنہ 1939ء میں انہیں البانیہ میں سفیر لگا دیا گیا۔ سنہ 1944ء میں دوبارہ چین میں سفیر مقرر ہوئے اور سنہ 1951ء سے 1954ء تک انہیں مصر میں سفیر تعینات کیا گیا۔ یہ مصر میں ترکی کے پہلے سفیر تھے جنہیں 'ناپسندیدہ' شخصیت قرا ر دے کر ملک بدر کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے فواد طوغائے کی اہلیہ شہزادی امینہ کے بارے میں بھی معلومات جمع کیں۔ ان معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ شہزادی امینہ سنہ 1897ء کو استنبول میں پیدا ہوئیں۔ آنجہانی شہزادی امینہ دریہ کے علاوہ 'خانم افندی' 'مدام طوغائے' اور 'شہزادی امینہ مختار کاٹیرگی اوگلو' کے ناموں سے بھی جانی جاتی تھیں۔ انہوں نے انگریزی زبان میں ایک کتاب" Three Centuries Family Chronicles of Turkey and Egypt” بھی لکھی تاہم اب یہ کتاب نایاب ہے۔

فواد طوغائے قاہرہ میں پرتعیش زندگی گذارنے والے ترک سفیر تھے۔ انہیں قاہرہ میں ان کے سسرالی خاندان نے ایک بڑی جائیداد کا مالک بھی بنا دیا تھا۔ اخبار "اھرام" کی رپورٹ کے مطابق شہزادی امینہ کی والدہ شہزادی نعمت قاہرہ میں ایک وسیع وعریض محل کی مالکہ تھیں۔ خود شہزادی امینہ کے ایک محل کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اھرام کے نامہ نگار خالد مبارک نے اس محل کے بارے میں ایک مضمون بھی لکھا تاہم ماں اور بیٹی کے محلات کی تصاویر ظاہر نہیں کیں۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ شہزادی امینہ کا قاہرہ میں محل آج چوہوں اور چمگادڑوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔

سنہ 1954ء میں جب جمال عبدالناصر اور ترک سفیر فواد طوغائے کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تو اس وقت ترکی میں عدنان مندریس وزیراعظم تھے۔ مندریس اور جمال عبدالناصر میں براہ راست کوئی مخاصمت نہیں تھی اور نہ ہی دونوں ملکوں کے درمیان کوئی قابل ذکر کشیدگی کا پتہ چلتا ہے۔ البتہ طوغائے کی بے دخلی کی وجہ ان کی اپنی متنازعہ شخصیت قرار دی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں