.

ترکی: امام مسجد و موذن اور "راک" موسیقار، ایک شخص دو چہرے

"راک امام" میڈونا کے ساتھ فن کامظاہرہ کرنے کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیا آپ نے کبھی سنا کہ کوئی شخص مسجد کا امام اور موذن ہو لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ پاپ موسیقار بھی ہو؟ جی ہاں!۔ اس رپورٹ میں آپ کو ایک ایسی ہی ایک ترک نوجوان کی زندگی کے دو مختلف زاویے بتائے جا رہے ہیں جو مسجد کا امام اور موذن ہونے کے ساتھ معروف مغربی موسیقی" راک" کا ماہر موسیقار بھی ہے۔ وہ دن میں پانچ وقت کی نماز کی امامت بھی کرتا ہے اور بقیہ اوقات میں موسیقی سے خود بھی دل بہلاتا اور دوسروں کو بھی محظوظ کرتا ہے۔

ترکی کے اس نوجوان "راک امام" کو احمت توزر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو جب اس کی ایک ہی وقت میں 'دینداری' اور'الحاد' کا علم ہوا تواس کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنا شروع کیں۔

رپورٹ کی تیاری کے دوران معلوم ہوا کہ احمت توزر ضلع قیصریہ کے "بنار پاشا" قصبے کا رہائشی ہے۔ وہ ترکی کے ایک لاکھ آئمہ مساجد میں واحد امام ہے جس نے خلاف روایت ایک عیسائی خاتون سے شادی رچا رکھی ہے۔ اس کی وجہ شُہرت ایک امام مسجد سے زیادہ اس کی "راک "موسیقی ہے۔ احمت نے اپنا الگ سے موسییقی کا ایک بینڈ بھی قائم کر رکھا ہے جس میں اس کے کئی دوسرے ساتھی گلوکار بھی شامل ہیں۔

سماجی رابطے کی ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ "یو ٹیوب" پر اس کی آواز میں ویڈیوز بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ موصوف کے روز و شب کے معمولات میں اپنے شہر کی ایک جامع مسجد کی امامت اور اذان دینا شامل ہے۔ قریبا ڈیڑھ سو افراد اس کی امامت میں نماز ادا کرتے ہیں۔ جمعہ کے روزیہ تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ کلین شیو احمت ہی نماز جمعہ کا خطبہ دیتا اور نماز کی امامت کرواتا ہے۔

"موسیقار امام" کے اس دہرے طرز عمل کے باعث وہ ایک متنازعہ شخص بھی بنتا جا رہا ہے۔ اس کے واقفان حال اسے "راک امام" یعنی راک موسیقی کا امام کہنے لگے ہیں۔

"راک صوفیانہ موسیقی"

احمت توزر اپنی وضع قطع میں امام مسجد نہیں لگ رہا، لیکن اس کا دعویٰ ہے کہ وہ موسیقی صرف حرام نہیں سمجھتا۔ اس کے نزدیک "راک موسیقی" اسلام میں نہ صرف جائز بلکہ صوفیائے کرام کے ہاں رائج رہی ہے۔ امریکی اخبارات "وال اسٹریٹ جرنل" اور"یو ایس ٹو ڈے" نے بھی احمت توزر کے بارے میں رپورٹس شائع کیں، جس میں راک موسیقی کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔ اس نے اپنےموسیقی بینڈ کو FiRock کا نام دے رکھا ہے جو اس کے بہ قول صوفیانہ طزرکی موسیقی ہے۔موسیقی کی اس قسم میں معروف صوفی بزرگ جلال الدین رومی کا کلام گایا گیا ہے۔

احمت توزر نے اپنا موسیقی بینڈ رواں سال کے آغاز میں قائم کیا۔ اس نے صوفیانہ کلام کو"راک موسیقی" کی مختلف مغربی دھنوں میں گا کرموسیقی کو ایک نئی جہت سے روشناس کیا ہے۔ احمت توزر کی موسیقی کا پہلا البم "مسلمانوں کے نام پیام محبت" کے نام سے سامنے آیا توملک کے مفتی اعظم احمد سیلیک نے اس پرناراضگی کا اظہارکیا۔ تاہم ان کاکہنا تھا کہ ہم علماء سے اس بارے میں صلاح مشورہ کررہےہیں کہ آیا احمت توزر کا اقدام اسلامی روایات کے خلاف ہے یا نہیں۔

خود "راک امام" احمت توزر کا کہنا ہے کہ تشدد پسند اسلام کے پیروکار موسیقی کو پسند نہیں کرتے۔ اس کی وجہ صرف ان کے فہم کی کمی ہے۔ میرا مقصد اسلام کے روشن پہلو کو سامنے لانا اور ترک معاشرے سے تشدد کے خاتمے کےلیے اسلام کا اعتدال پسند چہرہ پیش کرنا ہے۔

احمت توزر اور اس کے دو ساتھیوں پرمشتمل موسیقی بینڈ نے حال ہی میں ایک البم جاری کیا ہے۔ جلد ہی وہ "چیلنج کا وقت آن پہنچا" کے عنوان سے دس گیتوں پرمشتمل ایک البم بھی سامنے آنےوالا ہے۔"راک موسیقی" کے مغربی اندازمیں صوفیانہ کلام پیش کرنے پر اسے امریکا سمیت دنیا بھر سے محافلِ موسیقی میں اپنے فن کا مٓظاہرہ کرنے کی دعوتیں بھی مل رہی ہیں۔

ترکی کی خبر رساں ایجنسی "اناطولیہ نیوز ایجنسی" کی ایک ماہ قبل سامنے آنے والی رپورٹ میں بھی احمت توزر کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ توزر کوسنہ 1999ء میں استنبول کی تاریخی سلطان احمد مسجد کا موذن مقرر کیا گیا تھا۔ ایک خوش الحان موذن ہونے کے ساتھ ساتھ اسے تلاوت قرآن پاک کے کئی مقابلوں میں کامیابی پرانعامات بھی مل چکے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی احمت توزر کوغیر معمولی پذیرائی مل رہی ہے۔ فیس بک اور ٹیوٹر پر خود احمت توزر کے تبصروں سےان کےموسیقی کے رحجان کا پتہ چلتا ہے۔ ٹویٹرپر وہ اپنی ٹیوٹس میں معروف گلوکارہ میڈونا کے ساتھ فن موسیقی کا مظاہرہ کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کرچکے ہیں۔