مصر: مقتول معمر قذافی کے کزن اقدام قتل کے الزام سے بری
بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے اور گرفتاری کی مزاحمت کے الزام سے بھی بریت
قاہرہ کی ایک عدالت نے لیبیا کے سابق مقتول صدر معمر قذافی کے کزن اور ان کے مشیر احمد قذاف الدم کو مصری پولیس کے دو اہلکاروں پر قاتلانہ حملے کی سازش کے الزام میں بری کر دیا ہے۔
احمد قذاف کو مارچ میں قاہرہ میں مصری پولیس اہلکاروں نے ان کے اپارٹمنٹ سے مسلح جھڑپ کے بعد گرفتار کیا تھا۔لیبیا انھیں حوالے کرنے کا مطالبہ کرچکا ہے لیکن مصر نے ابھی تک انھیں بے دخل نہیں کیا۔
عدالتی ذرائع کے مطابق قاہرہ کی عدالت نے سوموار کو احمد قذاف کو بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے اور گرفتاری میں مزاحمت کرنے کے الزام سے بھی بری کردیا ہے۔انھوں نے عدالت میں اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کی صحت سے انکار کیا تھا۔عدالتی ذرائع نے ان کی موجودہ حیثیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
واضح رہے کہ مصری پولیس کے نقاب پوش اہلکاروں نے ان کی گرفتاری کے لیے قاہرہ میں واقع ان کے اپارٹمنٹ پر دھاوا بول دیا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق انھوں نے اور ان کے محافظوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی تھی۔
احمد قذاف الدم کے پاس مصر کا رہائشی اجازت نامہ تھا اور وہ لیبیا اور مصر کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی بہتری کے لیے کام کررہے تھے۔انھوں نے سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے خلاف فروری 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک شروع ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔