.

گوانتانامو بے سے واپس آنے والے دو سعودی بحالی مرکز کے سپرد

دونوں کو معاشرے میں بحالی کے لیے تعلیم وتربیت کے عمل سے گزارا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے کیوبا میں واقع بدنام زمانہ عقوبت خانے گوانتانامو بے سے رہا ہو کر سعودی عرب واپس آنے والے دو قیدیوں کو اسلامی جنگجوؤں کے لیے بحالی کے پروگرام سے گزارا جائے گا۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان جنرل منصور الترکی نے منگل کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ سعد محمد حسین قحطانی اور حمود عبداللہ حمود العنزی بحالی پروگرام کے تحت تربیتی عمل سے گزریں گے اور ان کے لیے سعودی قوانین کی پابندی لازمی ہوگی۔

سعودی عرب کے اسلامی جنگجوؤں کی بحالی کے لیے پروگرام کے تحت انھیں آرٹ اور سپورٹس کی کلاسوں میں پڑھایا جاتا ہے،انھیں مذہبی تعلیمات دی جاتی ہیں تاکہ وہ تشدد کو بروئے کار لانے کے لیے اپنی اسلام کی تعبیر پر نظرثانی کریں اور معاشرے میں رہنے کے قابل ہوسکیں۔ان کا نفسیاتی تجزیہ کا بھی کیا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی رپورٹ کے مطابق حمود کی عمر اڑتالیس سال ہے اور وکی لیکس کی دستاویز کے مطابق قحطانی کی عمر پینتیس سال ہے۔واضح رہے کہ گوانتانامو بے کے حراستی مرکز میں 2002ء سے قید ان دونوں سعودیوں پر کوئی فرد جرم عاید نہیں کی گئی تھی۔ان کے خاندانوں کو ان کی واپسی کی اطلاع کردی گئی ہے اور ان کی ملاقات کے لیے انتظامات کردیے گئے ہیں۔

درایں اثناء امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدے دار نے بتایا ہے کہ گوانتا نامو بے میں اس وقت پندرہ مزید سعودی قید ہیں۔ان میں سے بعض رہائی کے اہل نہیں ہیں۔ دو سعودی شہریوں کی رہائی کے بعد امریکا کے حراستی مرکز میں قید افراد کی تعداد ایک سو ساٹھ رہ گئی ہے۔

ان میں سے چھپن یمنیوں سمیت اسّی قیدیوں کو رہائی کے لیے کلئیر کیا جاچکا ہے۔پانچ دسمبر کو گوانتا ناموبے سے دو الجزائریوں کو ان کے احتجاج کے باوجود آبائی وطن بھیجا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ الجزائر واپسی کی صورت میں ان سے ناروا سلوک کیا جا سکتا ہے۔