.

موزمبیق: مسافر طیارے کا حادثہ پائلٹ کی خودکشی کا نتیجہ تھا

تین ہفتے قبل پیش آئے حادثے میں 32 افراد لقمہ اجل بنے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تین ہفتے پیشتر براعظم افریقا کے ملک موزمبیق کے ایک مسافر طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ جہاز کسی فنی خرابی کے باعث حادثے شکار نہیں ہوا تھا بلکہ طیارے کے پائلٹ نے دانستہ طور پر خودکشی کرتے ہوئے اپنے ساتھ بتیس دیگر افراد کی بھی جان لے لی تھی۔

موزمبیق کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے چیئرمین جواؤ ابریو نے ایک نیوز کانفرنس میں طیارے کے حادثے کی محرکات کے بارے میں میڈیا کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ماہ ایک مسافر طیارہ موزمبیق کے صدر مقام مابوتو سے انگلولا کے شہر لوانڈا کے لیے روانہ ہوا۔ طیارے میں موزمبیق کے 10، انگولا کے نو، پرتگال کے پانچ، فرانس، برازیل اور چین کا ایک ایک باشدہ، ایک پائلٹ، اس کا معاون اور عملے کے چار دیگر افراد سوار تھے۔ طیارے نے چار گھنٹے کی پرواز کے بعد اپنی منزل مقصود تک پہنچنا تھا تاہم وہ افریقا کے دشوار گذار پہاڑوں میں گر کر تباہ ہو گیا۔

موزمبیق شہری دفاع کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آغاز میں ہم نے طیارہ حادثے کو فنی خرابی کا نتیجہ قرار دیا تھا لیکن نئی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حادثہ پائلٹ کی خود کشی کا نتیجہ تھا، طیارے میں کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔

حادثے کے فوری بعد طیارہ بنانے والی برازلین کمپنی امپرائر نے تحقیقات کے لیے ماہرین موزمبیق روانہ کردیے تھے۔ انہیں حادثے کے شکار جہاز کے دونوں بلیک باکس مل گئے جن کی ریکارڈنگ سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ یہ ایک "خود کش" حادثہ تھا۔ جواؤ ابریو نے بتایا کہ بلیک باکس کی ریکارڈنگ سے معلوم ہو رہا ہے کہ طیارے کا پائلٹ ھیرمینویوس ڈوس سانٹوز فرنانڈس نے دانستہ طور پر طیارے کا کنڑول فضاء میں چھوڑ دیا تھا۔

ابریو کا کہنا تھا کہ بلیک باکس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوران پرواز "معاون پائلٹ" کاک پٹ سے باہر گیا تو اندر سے طیارے کے پائلٹ نے کاک پٹ کا دروازہ لاک کردیا۔ معاون پائلٹ نے دروازہ کھولنے کی بار بار کوشش کی اور پائلٹ کو اشارہ کیا لیکن اس نے اس جانب کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ باہر موجود معاون ہوا باز نے بار بار وارننگ سائرنگ بھی بجائے تاہم پائلٹ نے اس کی ایک نہیں سنی اور اپنی زندگی کی آخری خواہش یعنی خود کشی کرتے ہوئے طیارے کا کنٹرول چھوڑ دیا۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پائلٹ جہاز کے ساتھ دانستہ طور پر کھیل رہا تھا۔ اس نے طیارہ 592 فٹ کی بلندی سے اچانک اٹھا کر 38 ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچا دیا تھا۔ ایسے لگ رہا تھا کہ یہ کوئی تجربہ کار ہوا باز نہیں بلکہ زیر تربیت فلائنگ آفیسر ہے، جو طیارے کو دانستہ گرانے کی کوشش کر رہا ہے۔