.

لیبیا: مظاہرین نے مرکزی بنک کا داخلی راستہ اور بندرگاہ بند کر دی

وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ، بنک عملے کو گھروں کو لوٹنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں مسلح مظاہرین نے مرکزی بنک کا داخلی راستہ اور بندرگاہ بند کردی ہے اور وہ وزیر اعظم علی زیدان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

عینی شاہدین نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ٹرکوں پر سوار مسلح افراد طرابلس کے وسط میں سمندر کے کنارے واقع مرکزی بنک کے اندر داخل ہوگئے۔ انھوں نے عملے کو عمارت کے اندر داخلہ ہونے سے روک دیا اور انھیں واپس گھروں کو جانے کی ہدایت کی۔اس کے بعد مظاہرین نے طرابلس کی بندرگاہ میں بھی داخلہ بند کردیا۔

واضح رہے کہ لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمرقذافی کے عوامی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار کے خاتمے کے بعد سے بدامنی کا دور دورہ ہے۔طرابلس اور دوسرے شہروں میں مسلح جنگجو دندناتے پھررہے ہیں۔وہ کسی حکومتی ادارے کے کنٹرول میں نہیں بلکہ وہ از خود ہی کارروائیاں کرتے ہیں اور وزیراعظم علی زیدان کی حکومت کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔

زیدان حکومت نے گذشتہ ماہ سرکاری کنٹرول سے ماورا اور سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار جنگجو گروپوں کو دارالحکومت طرابلس سے نکال باہر کرنے کے لیے کارروائی کی تھی اور شہر میں امن وامان کے قیام کے لیے فوج کو تعینات کیا تھا لیکن اس کے ان اقدامات سے بھی برسرزمین صورت حال بہتر نہیں ہوئی ہے۔

طرابلس کے علاوہ لیبیا کا مشرقی علاقہ قذافی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لاقانونیت کا شکار ہے۔مسلح جنگجو لیبیا کی سکیورٹی فورسز ،غیر ملکیوں ،ججوں ،سیاسی کارکنان اور میڈیا کے نمائندوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔ اب تک ان کے حملوں میں تین سو سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔