.

کرپشن اسکینڈل "معاندانہ طاقتوں" کی سازش ہے: رجب ایردوآن

"مخالف قوتیں قوم کے اجتماعی ضمیر کو قتل کرنا چاہتی ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے اسلام پسند وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنے وزرا کے بدترین کرپشن اسکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر بدعنوانی کے الزامات کو ترکی کے استحکام وترقی کی مخالف قوتوں کی سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مخالف قوتیں قوم کے اجتماعی ضمیر کو قتل کرنے کے درپے ہیں۔

استنبول میں صحافیوں اور دانشوروں کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانےسے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم ایردوآن کا کہنا تھا کہ "میں یہ بات ایک بار پھر کہتا ہوں کہ کرپشن اسکینڈل منتخب حکومت کو اقتدار سے الگ کرنے اور ترکی کے استحکام کے دشمن اندرونی اور بیرونی عناصر کی ایک گھناؤنی سازش ہے"۔ ان کا کہنا تھا کہ "کرپشن اسکینڈل کو ہوا دینے والے عناصر قوم کے متفقہ فیصلے کی ٹارگٹ کلنگ چاہتے ہیں۔" ان کا اشارہ اپنی حکومت کی جانب تھا جس کے بارے میں وہ متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ مخالف قوتیں اسے ختم کرنے کی سازش کر رہی ہیں۔

وزیر اعظم ایردوآن نے دبنگ لہجے میں 'سازشی عناصر' کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "تم لوگ عدالت کے ذریعے ترکی میں ایک نیا انقلاب لانے کی سازش کر رہے ہو۔ ہم اس سازش کا ہر محاذ پر مقابلہ کریں گے۔ گذشتہ برس 17 دسمبر کو بھی ہم نے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کا بھرپور مقابلہ کیا تھا۔ ہم آئندہ بھی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

خیال رہے کہ وسط دسمبر میں ایردوآن حکومت کو اس وقت ایک بڑا دھچکا لگا تھا جب کرپشن کے ایک میگا اسکینڈل میں ان کے کئی اہم مقربین بھی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔ وزیر اعظم نے کرپشن اسکینڈل کے اثرات سے بچنے کے لیے فوری طور پر اپنی کابینہ میں غیر معمولی تبدیلی کرتے ہوئے بدعنوانی میں ملوث وزراء کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔

کرپشن اسکینڈل نے ملکی معیشت پر بھی فوری اور گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں ترک کرنسی لیرا کی قیمت کم ترین سطح پر آ گئی ہے اور استنبول اسٹاک مارکیٹ میں بھی مسلسل ایک ہفتہ مندی کا رحجان رہا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم ایردوآن نے کہا کہ ہم ترکی کے روشن مستقبل کو بادلوں میں چھپانے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔