.

لیبیا اور تیونس میں سرگرم "انصار الشریعہ" عالمی دہشت گرد تنظیم قرار

امریکا نے تنظیم کے قائدین کی سروں کی قیمت دس ملین ڈالر مقرر کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں تیونس اور لیبیا میں سرگرم عسکری تنظیم" انصار الشریعہ" کو باقاعدہ طور پر"عالمی دہشت گرد" تنظیم قرار دیتے ہوئے دونوں ملکوں میں موجود اس کے سرکرہ لیڈروں کے سروں کی دس ملین ڈالر قیمت مقرر کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تیونس میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان کے ملک نے جہادی تنظیم" انصار الشریعہ" کےامیر سیف اللہ بن حسین المعروف ابو عیاض کو"عالمی دہشت گرد" قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لیبیا اور تیونس میں موجود تنظیم کے قائدین کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی انعامی رقم مقرر کی ہے۔

ادھر امریکی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پرجاری ایک بیان میں بھی تیونسی سفارت خانے کے دعوے کی تصدیق کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے"سی آئی اے" نے وزارت خزانہ کے تعاون سے انصار الشریعہ کے مطلوب دہشت گردوں کی فہرست جاری کردی ہے۔ ان میں بن غازی، الدرنہ اور تیونس میں موجود انصار الشریعہ کے کمانڈروں کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ تنظیم کے اشتہاری قرار دیے گئے کمانڈروں میں سیف اللہ بن حسین المعروف ابو عیاض، احمد ابو خطا اللہ، سفیان بن قومو اور دیگرسرفہرست ہیں۔

وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انصار الشریعہ نہ صرف لیبیا اور تیونس میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے بلکہ یہ تنظیم بیرون ملک دہشت گردی کی وارداتیں بھی کرتی رہی ہے جس کے باعث سے عالمی دہشت گرد گروپ قرار دیا گیا ہے۔

تیونس میں امریکی سفارت خانے نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ جماعت انصار الشریعہ نے تیونس میں 14 ستمبر 2012ء کو امریکی سفارت خانے اور ایک اسکول پر حملوں میں مدد فراہم کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن انصار الشریعہ کو ایک مشترکہ دشمن سمجھتا ہے اور اس کے خلاف کارروائی کے لیے مقامی حکومتوں کی مدد جاری رکھے گا۔

تاہم سفارت خانے کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے بیشتر انصار الشریعہ کے سپریم کمانڈر سیف اللہ بن حسین کی لیبیا سے گرفتاری میں امریکا کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سفارت خانے نے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی سختی سے ترید کی ہے جن میں کیا گیا تھا کہ واشنگٹن نے سیف اللہ بن حسین [ابو عیاض] کی گرفتاری میں لیبی حکام کی مدد کی تھی۔