بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان بدھ کے روز بھارت کے دورے پر پہنچے ہیں۔ حسینہ واجد کی حکومت کے 5 اگست 2024 کو خاتمے کے بعد کسی بنگلہ دیشی وزیر خارجہ یا اعلیٰ ذمہ دار کا پہلا دورہ ہے۔ حسینہ واجد اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد بھاگ کر بھارت چلی آئی تھیں۔
وزیر خارجہ خلیل الرحمان کا یہ دورہ خیر سگالی کا دورہ بتایا گیا ہے۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ ان کی بھارتی ہم منصب جے شنکر کے ساتھ ملاقات میں مجرموں کی حوالگی، توانائی سے متعلق امور، کھادوں کی فراہمی اور ویزوں کے اجراء کے سلسلے میں بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ یہ بیان بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے دو طرفہ تعلقات اور تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان تعلقات کو مختلف شعبوں میں آگے بڑھایا جائے گا۔ یاد رہے بنگلہ دیشی عدالت کی طرف سے حسینہ واجد کو سزا سنائے جانے کے بعد بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے سابق وزیر اعظم حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ اب پھر یہ مطالبہ دہرایا گیا ہے۔
بنگلہ دیشی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے موقع پر جے شنکر نے کہا 'انہیں میزبانی کر کے خوشی ہے۔ ہم دونوں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا ہے۔ اسی طرح دو طرفہ میکانزم اور شراکت داری کو گہرا کرنے کے امور زیر بحث آئے۔' خیال رہے نئے وزیر اعظم طارق رحمان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری سامنے آرہی ہے۔