.

سعودی عرب میں زائرین عمرہ کے زائدالمیعاد قیام پر سخت قدغنیں عاید

عمرہ سروس والوں کو زائرین کے زائد المدت قیام پر ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت حج نے عمرے کے ویزے پر آنے والے زائرین کے زائدالمیعاد قیام کی روک تھام کے لیے نئی سخت قدغنیں عاید کی ہیں اور اگر کسی عمرہ سروس مہیا کرنے والے گروپ یا ادارے کی فہرست میں شامل زائرین میں سے پانچ سو یا ایک فی صد نے بھی مقررہ مدت سے زیادہ قیام کیا تو وہ پھر عمرے کے ویزے کے لیے درخواستیں نہیں دے سکیں گے۔

وزیرحج بندر بن حجار نے میڈیا کے لیے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''عمرہ سروس والوں کی سروس اس وقت تک بند رہے گی جب تک زائد المدت قیام والوں کی تعداد کم نہیں ہوجاتی اور زائرین کو مہیا کی جانے والی خدمات کا معیار بہتر نہیں بنادیا جاتا''۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سال گذشتہ سال کے مقابلے میں ویزے کی مدت سے زائد قیام کرنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔وزارت حج نے 4 دسمبر کو رواں عمرہ سیزن کے آغاز کے بعد سے عمرے کے لیے سترہ لاکھ ویزے جاری کیے ہیں۔ان ویزوں پر نو لاکھ تریپن ہزار عازمین سعودی مملکت میں آئے تھے اور ان میں سے پانچ لاکھ سولہ ہزار اپنے اپنے ممالک کو واپس جاچکے ہیں۔

بندر بن حجار نے بیان میں بتایا ہے کہ اس عمرہ سیزن کے لیے عمرہ خدمات مہیا کرنے والوں کو اڑتالیس لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔گلوبل الیکٹرانک نیٹ ورک متعارف کرایا گیا ہے اور ڈیجیٹل سسٹم میں وسعت کے ذریعے ویزے کے اجراء کا طریق کار آسان بنا دیا گیا ہے تاکہ عمرہ زائرین کے تحفظ ،سہولت اور روانگی کو یقینی بنایا جاسکے۔