شامی مسئلہ: سفارتکاری کیساتھ دیگر آپشنز بھی زیر غور ہیں، وائٹ ہاوس

وائٹ ہاوس کے ترجمان کا شامی رجیم کے بارے میں مایوسی کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے شام کے مسئلے کے حل کیلیے محض سفارت کاری پر انحصار کرنے کے بجائے دوسری آپشنز پر بھی پھر سے غور شروع کردیا ہے۔ یہ باضابطہ انکشاف جنیوا ٹو کے حوالے سے جاری دوسرے سیشن کی ناکامی کے بعد وائٹ ہاوس کے ترجمان جے کارنے نے کیا ہے۔

شامی مسئلے کے حل کیلیے جنیوا ٹو کے نام سے شروع ہونے والے مذاکرات کا دوسرا سلسلہ پچھلے ہفتے کے اختتام پر تلخی ترشی کے بعد ٹوٹ گیا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اس امر پر اب بھی قائل ہیں کہ مذکرات ہی بہترین راستہ ہیں۔

سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان مارٹن نیرسکی نے منگل کے روز تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے دیرینہ مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے حل نکالیں کیلیے از سر نو میز پر بیٹھ جائیں۔

یواین ترجمان کا کہنا ہے کہ ''مذاکرات ایک مسلسل عمل کا نام ہے کسی ایک ہی موقع کے حوالے سے ایک یا دوبار کے مذاکرات سے مسائل کا حل نہیں نکلتا ایسے مسائل کو لمبا وقت چاہیے ہوتا ہے۔''

لیکن شام کے رویے کو دیکھتے ہوئے امریکا اس نتیجے پر پہنچ گیا ہے کہ سفارت کاری پر ہی انحصار کافی نہیں ہے۔

امریکی سفارتکاروں اور اہم شخصیات جنیوا ٹو کی ناکامی کا ذمہ دار نہ صرف شامی رجیم کو سمجھتے ہیں بلکہ شام کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کی ڈیڈ لائن پوری نہ ہونے پر بھی برہم ہیں۔

امریکی کوشش رہی ہے کہ اس سلسلے میں روس کو شامی رجیم پر دباو ڈالنے کیلے کہتا رہے، لیکن اس کے نتائج بھی ابھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس صورت حال میں وائٹ ہاوس کے ترجمان نے شامی رجیم کیخلاف دیگر آپشنز استعمال کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں