.

خون کے نمونے کے بغیر ایڈز، کالے یرقان کی تشخیص ممکن

مصری فوج کے انجیئنرنگ ڈیویژن نے منفرد آلہ تیار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ممتاز صحافی اور اخبار "الاسبوع" کے چیف ایڈیٹر مصطفیٰ بکری نے کہا ہے کہ مسلح افواج کے انجینیئرنگ ڈیویژن کے "ایڈز" اور "ہیپاٹائیٹس سی" جیسے مہلک امراض کی تشخیص کے لیے آلہ ایجاد کرنے کا فیلڈ مارشل جنرل عبدالفتاح السیسی کو صدارتی امیدوار نامزد کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مصفطیٰ بکری کا کہنا تھا کہ بلا شبہ ایڈز اور ہیپاٹائیٹس سی جیسے موذی امراض کے علاج کے لیے فوج نے جو طریقہ تشخیص ایجاد کرنے کا دعوی کیا ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ اس ایجاد کے ذریعے خون کے نمونے کے بغیر کسی بھی فرد میں ان دونوں امراض کی تشخیص ممکن ہو سکے گی۔

ان خیالات کا اظہار "العربیہ" کے برادر ٹیلی ویژن "الحدث" کے پروگرام "الحدث مصری" کے میزبان محمود الورواری سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔

صحافی اور تجزیہ نگار مصطفیٰ بکری کا کہنا تھا کہ وہ تنی ہوئی رَسی پر چلنا نہیں جانتے۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل السییسی کا موجودہ حالات میں مصر کا صدر بننا وقت کی ضرورت ہے۔ جنرل عبدالفتاح السیسی ہی ملک کو موجودہ بحران سے نجات دلانے کے ساتھ قوم کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی شخص کو ذاتی مفادات کے لیے ریاستی میشنری اور ریاستی اداروں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ جنرل عبدالفتاح السیسی کو مصر کے سرکاری ٹی وی کو اپنے حمایتی پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ نمود نمائش سے دور رہنے والے لیڈر ہیں۔ وہ اگر مصری ٹی وی پر نمودار بھی ہوتے ہیں تو صرف مسلح افواج کی بات کرتے ہیں۔

جنرل السیسی بخوبی جانتے ہیں کہ کون ان کے ساتھ مخلص ہے اور کون منافقانہ چال چل رہا ہے۔ جنرل السیسی کو اپنی حمایت میں کوئی پروپیگنڈہ مُہم چلانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اب تک ایسی کسی بھی مہم کی خود بھی حوصلہ شکنی کر چکے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں اس نوعیت کی مہمات انہیں فائدے کے بجائے نقصان ہی پہنچائیں گے۔ اس لیے وہ ان سے دور ہی رہتے ہیں۔
ایک دوسرے سوال پر مصطفیٰ بکری کا کہنا تھا کہ وہ اپنی جماعت "مصر میرا وطن" کو پیش آئند پارلیمانی انتخابات کے لیے ایک سیاسی جماعت میں ڈھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ایسا جنرل عبدالفتاح السیسی کی حمایت نہیں کر رہا ہوں اور نہ ہی جنرل السیسی کی حمایت مقصود ہے۔ انہوں نے کہا میری خواہش ہے کہ جنرل عبدالفتاح السیسی خود کو کسی جماعتی وابستگی سے دور رکھیں۔ اگر وہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے خواہاں ہو جماعتی وابستگی انہیں متنازعہ بنا سکتی ہے۔

البکری کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ صدارتی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ امیدوار شریک ہوں۔ ہم ملک میں ایک شخص پر ریفرنڈم نہیں چاہتے۔ قوم کو اپنے من پسند صدر کے انتخاب کا مکمل اختیار دیا جانا چاہیے۔