.

لیبیا:سیف قذافی کے خلاف مقدمے کی سماعت پر کنفیوژن

سابق مرد آہن کے بیٹے کو طے شدہ شیڈول کے مطابق عدالت میں نہ لایا جا سکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مقتول صدر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں قائم مقدمے کی جمعرات کو سماعت نہیں ہوسکی ہے اور اس حوالے سے لیبی حکام الجھاؤ کا شکار نظر آئے ہیں۔

سیف قذافی کو آخری مرتبہ 12دسمبر 2013ء کو مغربی شہر الزنتان میں ایک عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔وہ اسی شہر میں اپنی گرفتاری کے بعد سے مقید ہیں۔ان کے وکیل نے تب کہا تھا کہ ان کے خلاف مقدمے کی آیندہ سماعت 27 فروری جمعرات کو ہوگی اور استغاثہ کے ترجمان صدیق السور نے بھی بدھ کو اس کی تصدیق کی تھی۔

لیکن آج جمعرات کو یہ ترجمان صاحب اپنے بیان سے پھر گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سیف قذافی کے خلاف دراصل گذشتہ جمعرات کو سماعت ہونا تھی مگر اس روز دستورساز اسمبلی کے انتخاب کے لیے پولنگ کی وجہ سے اس کو ملتوی کردیا گیا تھا۔اس کے بعد سماعت کی نئی تاریخ مقرر کرنے کا اختیار الزنتان کی عدالت کو ہے۔

واضح رہے کہ 24 اکتوبر کو طرابلس کی ایک عدالت نے سیف الاسلام قذافی اور ان کے چھتیس معاونین کو معمر قذافی کے خلاف 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مختلف جرائم کے ارتکاب کے الزامات میں ماخوذ کیا تھا لیکن الزنتان سے تعلق رکھنے والے طاقتور باغیوں نے انھیں دارالحکومت میں منتقل کرنے سے انکار کردیا تھا حالانکہ لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل نے بھی سیف قذافی کو طرابلس منتقل کرنے کی درخواست کی تھی اور لیبی حکام نے اپنے تئیں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان کی جیل ریاست کے کنٹرول میں ہے۔

سیف قذافی ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے الزامات میں مطلوب ہیں۔گذشتہ سال مئی میں آئی سی سی نے طرابلس کی جانب سے ان کے خلاف لیبیا ہی میں مقدمہ چلانے کی درخواست مسترد کردی تھی۔طرابلس نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کررکھی ہے۔

اسی ماہ کے آغاز میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے لیبی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیف قذافی اور ان کے شریک مدعا علیہان کو مناسب وکیل مہیا کریں تا کہ ان کے منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنایا جاسکے۔

نیویارک میں قائم اس تنظیم نے کہا تھا کہ اس کے عملے کے ارکان نے گذشتہ ماہ سیف قذافی اور لیبیا کے سابق انٹیلی جنس چیف عبداللہ السنوسی سے ملاقات کی تھی اور ان دونوں نے تفتیش اور قبل از سماعت ٹرائل کے دوران اپنی نمائندگی نہ ہونے کی شکایت کی تھی۔ان دونوں اور ان کے ساتھ مقدمے میں شریک ملزموں پر قتل ،اغوا ،آبروریزی کی شہ دینے ،لوٹ مار ،تخریب کاری،قومی خزانے میں خردبرد اور قومی سلامتی کونقصان پہنچانے کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔