سیف الاسلام قذافی کی حوالگی، عالمی عدالت اور طرابلس کے مابین جنگ جاری

لیبی حکومت عالمی عدالت انصاف کے حکم پر عمل کرے: ہیومن رائٹس واچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ہیگ کی انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے طرابلس کی جانب سے سابق لیبی صدر کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کا ٹرائل نہ کرنے کی درخواست مسترد کردیا ہے۔ مشتبہ افراد کے ٹرائل کے اس کیس، جو فریقین کی طاقت جانچنے کا ایک ٹیسٹ بن گیا تھا، سے متعلق عالمی عدالت سے اسی فیصلے کی توقع کی جا رہی تھی

عالمی عدالت انصاف کا کہنا تھا چیمبر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس بات کے کافی ثبوت موجود نہیں ہیں کہ اس معاملے پر لیبیا میں قومی سطح تحقیقات ہوئی ہیں جس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ سیف الاسلام قذافی نے 2011 کی لیبی جنگ میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے

لیبیا کے ایک سابق باغی گروہ نے نومبر 2011 گیارہ کو چالیس سیف الاسلام قذافی کو طرابلس کے جنوب مغربی میں 180 کلومیٹر کی مسافت پر واقع الزنتان کے علاقے سے گرفتار کرلیا تھا اور انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) کی جان سے اس کے ٹرائل کےاحکامات کے باوجود وہ انہیں کی حراست میں ہے۔ عالمی فوجداری عدالت کے اس فیصلے کے فورا بعد ہیومن رائٹس واچ نے بھی لیبیا سے مطالبہ کردیا ہے کہ وہ سیف الاسلام کو ہیگ میں عالمی عدالت کے ہیڈ کوارٹر میں پیش کرے۔

لیبی حکام نے گزشتہ سال مئی میں عالمی عدالت کو ایک درخواست میں لیبی جنگ کے دوران مارے جانے والے آمر کرنل قذافی اور خارجہ سکیورٹی کے سابق سربراہ 63 سالہ عبد اللہ سنوسی کے ٹرائل کی استعداد پر شک کا اظہار کیا تھا۔ اس وقت عالمی عدالت نے اعلان کیا تھا کہ لیبیا سیف الاسلام قذافی کو اس کےبارے میں فیصلہ آجانے تک اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔


واضح رہے کہ عبد اللہ السنوسی پر بھی آئی سی سی نے انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب ک الزام عائد کر رکھا ہے۔ انہیں مارچ کے وسط میں موریطانیہ سے گرفتار کیا گیا اور پانچ ستمبر میں لیبیا کے سپرد کردیا گیا تھا۔ آئی سی سی نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ عدالت نے کیس کے بعض پہلووں پر پیش رفت کی ہے، جن میں ملیشیائی فورسز کی نقل و حرکت کرانا اور صحافیوں اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کو گرفتار کرنا شامل ہیں۔

تاہم عدالت نے کہا کہ لیبی انویسٹی گیشن میں مجموعی طور پر وہ معاملات نہیں تھے جو عالمی عدالت کے پراسیکیوٹر نے سکیورٹی کونسل کے فیصلے کے مطابق آئی سی سی کے سامنے پیش کیے تھے۔

آئی سی سی کسی بھی مشتبہ فرد کا ٹرائل اس وقت نہیں کر سکتی جب کسی ملک کی عدلیہ ایسا کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہو یا وہ اس مشتبہ فرد کا ٹرائل کرنا نہ چاہتی ہو۔ اس ضمن میں عالمی عدالت نے بتایا کہ لیبیا کی حکومت خاص شہادتوں کے حصول اور بعض گاہوں کو سکیورٹی کی فراہمی کی یقین دہانی کروانے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

عالمی عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیبیا میں عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی کے واقعات کے حوالے سے اب بھی کافی رکاوٹیں موجود ہیں۔ آئی سی سی کا اشارہ 2011 میں جنگ کے خاتمے کے بعد سے لیکر اب تک امن عامہ کی نازک صورتحال کی طرف تھا، لیبیا میں اغوا کی کارروائیوں سمیت دیگر جرائم ہو رہے ہیں اور حکومت اب تک کرنل معمر قذافی کے قتل میں ملوث سابق انقلابی گروپوں پر قابو پانے میں بھی ناکام رہی ہے۔

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے کہا کہ لیبیا کی حکومت سیف الاسلام قذافی کو ریاست کے سپرد کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی، حکومت کے ثبوت اکٹھا کرنے اور سیف الاسلام قذافی کی عدالت میں قانونی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے بھی کافی مشکلات ہیں۔

سیف الاسلامی لیبیا میں کرنل معمر قذافی کے سب سے معروف بیٹا تھا اور اسے ملک کا اگلا حکمراں شمار کیا جاتا تھا۔ تاہم فروری 2011 میں لیبیا میں انقلابی تحریک شروع ہوگئی جس سے کرنل قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور بالآخر اکتوبر 2011 میں کرنل قذافی کو بھی قتل کردیا گیا۔ اس سے قبل سیف الاسلام کو قومی سکیورٹی نقصان پہنچانے کے الزام میں متعدد بار الزنتان کی عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں