.

یوکرائن میں روسی مداخلت، امریکا، فرانس اور کینیڈا کے رابطے

روس آج بھی 19 ویں صدی میں رہ رہا ہے، جان کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر اوباما نے یوکرائن میں روسی مداخلت سے پیدا شدہ صورتحال پر فرانس کے صدر اولیندے اور کینیڈا کے وزیر اعظم سٹیفن ہارپر کے ساتھ فون پر تبادلہ خیال کیا ہے، عالمی رہنماوں نے فونک رابطے پر یوکرائن میں روس کی فوجی مداخلت پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ نے روس کو سخت ردعمل سے خبردار کرتے ہوئے اقتصادی پابندیاں لگانے کا اشارہ دیا ہے۔

وائٹ ہاوس کے مطابق ''تینوں ملکوں کے رہنماوں نے یوکرائن کی خود مختاری کے احترام پر زور دیا ہے ۔ واضح رہے وائٹ ہاوس سے جاری کیے گئے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما کی دونوں ملکوں کے رہنماوں کے ساتھ الگ الگ بات ہوئی ہے۔

دوسری جانب روس کے صدر ولادی میر پیوٹن پہلے ہی صدر اوباما سے کہہ چکے ہیں کہ '' روس کو اپنے مفادات اور روسی زبان بولنے والوں کے دفاع کا حق ہے۔'' امریکا اور روس کے صدور نے روسی پارلیمنٹ کی طرف سے یوکرائن میں فوجی کارروائی کے حق میں قرار داد کی منظوری کے بعد باہم رابطہ کیا تھا۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے امریکی صدر براک اوباما کو یوکرائن میں اپنی فوج بھیجنے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''یوکرائن کہ وہاں شہریوں کی زندگیوں اور صحت کو حقیقی خطرات درپیش ہیں۔'' انہوں نے اس موقع پر یوکرائن کی نئی حکومت کو جرائم پر مبنی اقدامات کی مدد کرنے والی قرار دیا۔

اسی دوران شمالی اٹلانٹک میں نیٹو کے سربراہ آندرس راسموسین نے اتوار کے روز یوکرائن میں پیدا شدہ صورتحال پر پر بات چیت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے 28 ملکوں کے سفیر حضرات کو برسلز میں صورت حال پر ہنگامی طور پر غور کیلیے کہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ہم اس معاملے میں متحد ہیں اور ہم اس تاریخی لمحے پر یوکرائن کے عوام کے ساتھ ہوں گے۔ جان کیری نے روس سے ایک مرتبہ پھر یوکرائن سے نکل جانے کے لیے کہا۔

دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ نے یوکرائن میں میں فوجی مداخلت پر کہا ہے کہ لگتا ہے روس آج بھی 19 ویں صدی کے جارحانہ فیشن کے ماحول میں ہے جیسا کہ سوویت یونین کا رویہ رہا ہے۔ جان کیری نے کہا اس صورتال میں روس کو امریکا اور دوسرے ممالک کی طرف سے سخت مضمرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے روس کیخلاف اقتصادی پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔