.

پاسداران انقلاب کا جاری معاشی منصوبے حکومت کو دینے سے انکار

ایرانی حکومت تاخیر کے شکار منصوبے فوج سے واپس لینے کی خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں کئی اقتصادی منصوبے ملک کی طاقتور فوج پاسداران انقلاب کی زیر نگرانی چل رہے ہیں لیکن ان کی بروقت تکمیل میں تاخیر کے باعث حکومت منصوبے ختم کرنے یا فوج سے واپس لینے کی خواہاں ہے۔

دوسری جانب پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور ان کی حکومت تاخیر کے باوجود جاری اقتصادی منصوبے پاسداران انقلاب سے واپس نہیں لے سکتی ہے۔ بالخصوص تیل اور گیس کی جن اسکیموں کی نگرانی پاسداران انقلاب کر رہی ہے وہ جاری رہیں گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کے اقتصادی شعبے" خاتم الانبیاء" کے ہیڈ کواٹرز کمانڈر بریگیڈیئر عباداللہ عبداللہ نے خبر رساں ایجنسی "فارس" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "فوج کے زیر نگرانی کئی مالیاتی منصوبے ابھی مکمل نہیں ہو سکے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاسداران انقلاب ان کی نگرانی بھی چھوڑ دے"۔

قبل ازیں ایران کے نائب وزیر برائے پٹرولیم حمید رضا عراقی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ "خاتم الانبیاء" ہیڈ کواٹرز اندرون ملک چھٹے گیس پائپ لائن منصوبے کو اپنی مقررہ مدت میں مکمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ حکومت پاسداران انقلاب کے ساتھ منصوبے کو ختم کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے"۔

ڈائریکٹر جنرل برائے تیل پائپ لائن پراجیکٹ عباس علی جعفری نے حکومتی دعوے کی تصدیق کی اور کہا کہ "ہاں پاسداران انقلاب کی زیر نگرانی جاری منصوبے تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس لیے اب ہم ان ٹھیکوں کو منسوخ کرنے پر غور کر رہے ہیں"۔

ان بیانات کے ردعمل میں بریگیڈیئرعباداللہ عبداللہ کا کہنا تھا کہ جن منصوبوں کی نگرانی پاسداران انقلاب کر رہا ہے وہ جاری رہنے چاہئیں۔ اگر فوج کی جانب سے کام میں تاخیر ہوئی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ٹھیکے ہی منسوخ کر دیے جائیں۔ چھٹا گیس پائپ لائن منصوبہ تیزی سے روبہ عمل ہے۔ مزید رقم ملنے کے بعد ہم جلد پیش رفت کریں گے"۔

خبر رساں ایجنسی "فارس" کے مطابق پاسداران انقلاب کی جانب سے وزارت پٹرولیم سے اضافی فنڈز بھی طلب کیے گئے لیکن ابھی تک فوج کو رقم فراہم نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات بڑھنے لگے ہیں۔

یاد رہے کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں پاسداران انقلاب نے کئی اقتصادی منصوبوں کے ٹھیکے حاصل کیے تھے لیکن موجودہ صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے فوج کی اقتصادی سرگرمیاں محدود کردی ہیں۔ موجودہ حکومت پرائیویٹ سیکٹر اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ٹھیکے دینے میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے۔