.

ترکی میں فیس بُک اور یوٹیوب پر پابندی لگانے کا اشارہ

وزیراعظم ایردوآن آن لائن ٹیپس کے افشاء پرانٹرنیٹ مخالف مزید قدغنوں کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے خبردار کیا ہے کہ ان کی حکومت سوشل میڈیا نیٹ ورکس یوٹیوب اور فیس بُک پر پابندی عاید کرسکتی ہے۔

طیب ایردوآن نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل اے ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ''ہم 30 مارچ کے بعد اس شعبے (انٹرنیٹ) میں یوٹیوب اور فیس بُک پر پابندی سمیت مزید اقدامات کریں گے''۔

ان کا اشارہ ترکی میں 30 مارچ کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی جانب تھا۔قبل ازیں بھی ان کی حکومت انٹرنیٹ پر بعض قدغنیں عاید کرچکی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کو رجب طیب ایردوآن کی حکمراں جماعت عدل اور ترقی پارٹی (اے کے پی) کی مقبولیت جانچنے کا پیمانہ قراردیا جارہا ہے۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق وزیراعظم ایردوآن اور اے کے پارٹی کے دوسرے عہدے داروں اور وزراء پر بدعنوانیوں کے سنگین الزامات سے جماعت کی مقبولیت پر فرق پڑا ہے۔

ترک وزیراعظم کو گذشتہ ماہ آن لائن آڈیو ٹیپس منظرعام پر آنے کے بعد سے سخت تنقید اور دباؤ کا سامنا ہے۔ان آڈیو ٹیپس میں وہ مبینہ طور پر اپنے بیٹے بلال سے گفتگو کررہے ہیں اور اس گفتگو کا محور بھاری رقم کو ٹھکانے لگانا ہے۔

انھوں نے ان آڈیو ٹیپس کو جعلی قراردے کر مسترد کردیا ہے اور اسے اپنے سیاسی حریفوں کی جانب سے رکیک حملہ قراردیا ہے لیکن حزب اختلاف نے ان ٹیپس کے منظرعام پر آنے کے بعد حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔آن لائن افشاء کی گئی دوسری کہانیوں اور ٹیپس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایردوآن تجارتی سودوں اور عدالتی کیسوں میں مداخلت کررہے ہیں۔

ترکی میں حکمراں اشرافیہ کے رشوت اور بدعنوانی میں ملوث ہونے کا بڑا اسکینڈل دسمبر میں منظرعام پر آیا تھا اور اس کے بعد سے طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور ان سے مستعفی ہونے اور قبل از وقت انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

بدعنوانی کے اس بڑے اسکینڈل کی تحقیقات کو رجب طیب ایردوآن کی حکومت اور امریکا میں جلاوطن بااثر ترک مسلم اسکالر فتح اللہ گولن کے حامیوں کے درمیان کشیدگی کا شاخسانہ قراردیا جارہا ہے۔وہ اگرچہ امریکا میں رہ رہے ہیں لیکن ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے پیروکار ترک حکومت ،پولیس اور عدلیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔

ترک حکومت نے گولن تحریک کے تحت چلنے والے اسکولوں اور دوسرے اداروں پر بھی بعض قدغنیں لگائی ہیں۔وزیراعظم ایردوآن نے اگلے روز بلدیاتی انتخابات کے بعد گولن تحریک کے خلاف مزید سخت اقدامات کا اشارہ دیا ہے لیکن یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ کیا اقدامات کریں گے۔

سازش کیس

درایں اثناء ترکی کی آئینی عدالت نے سابق آرمی چیف ایلکر باسبگ کی جیل سے رہائی کے لیے درخواست منظور کر لی ہے اور ان کا کیس دوبارہ ماتحت عدالت کو بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

ایلکر باسبگ کو ایردوآن حکومت کے خلاف ''ارجنکن'' سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں قصوروار قراردے کر عمر قید کی سزاسنائی گئی تھی لیکن ماتحت عدالت نے ان کے خلاف فیصلے کی تفصیل سے اپیل عدالت کو آگاہ نہیں کیا تھا اور نہ اب تک اس کو شائع کیا ہے۔اب آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد ان کی رہائی کا امکان ہے اور اس کے ساتھ اس سازش میں ماخوذ کیے گئے دوسرے دو سو افراد کی رہائی کی بھی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

آئینی عدالت نےاپنے حکم میں قراردیا ہے کہ ماتحت عدالت کی جانب سے اس کیس کے تفصیلی فیصلے کی اشاعت میں ناکامی اور اس کو اپیل عدالت کو بھیجنا شخصی حقوق سے متعلق شق کی خلاف ورزی ہے۔اس لیے درخواست گزار کی رہائی سے متعلق مطالبے پر مبنی اپیل کو ماتحت عدالت کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تاہم یہ واضح نہیں ہوا کہ ماتحت عدالت نے ابھی تک اس اہم کیس کا تفصیلی فیصلہ کیوں شائع نہیں کیا ہے۔

باسبگ گذشتہ چھبیس ماہ سے استنبول کے نزدیک واقع سلویری جیل میں قید ہیں۔ایرجنکن سازش کیس پانچ سال تک عدالتوں میں زیرسماعت رہا تھا اور اس کا گذشتہ سال اگست میں عدالت نے فیصلہ سنایا تھا۔جنرل باسبگ 2010ء میں ریٹائر ہوئے تھے اور انھیں عدل اورترقی پارٹی کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں جنوری 2012ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان سے قبل 2007ء کے بعد ایرجنکن سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں بیسیوں فوجی افسروں اور ان کے معاون اعلیٰ عہدے داروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ایرجنکن گروپ کے خلاف 2007ء میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔اس گروپ نے مبینہ طور پر بم حملے اور لوگوں کو قتل کر کے ترک حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ابتدا میں اس مشتبہ گروپ کے خلاف تحقیقات کا خیرمقدم کیا گیا تھا لیکن جب حکومت نے اپنے ناقد صحافیوں ،ماہرین تعلیم اور دانشوروں کو نشانہ بنانا شروع کیا تواس پر کڑی نکتہ چینی کی گئی تھی۔حکمران جماعت پر یہ بھی الزام عاید کیا گیا تھا کہ وہ ایرجنکن گروپ کے خلاف تحقیقات کو اپنے سیاسی مخالفین کوانتقام کا نشانہ بنانے کے لیے بھی استعمال کرتی رہی ہے۔