.

ایردوآن حکومت کی مبینہ کرپشن کے بارے میں نئی ٹیپ آ گئی

فون کال پر وزیر ذراعت نے کمیشن کی رقم نہ پہنچنے کی شکایت کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رجب طیب ایردوآن کی زیر قیادت ترک حکومت جو آج کل کرپشن کے الزامات کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے کے لیے ایک سابق وزیر اور ایک کاروباری شخصیت کے درمیان فون پر ہونے والی گفتگو منظر عام پر آنا ایک اور دھچکے کا باعث بنی ہے۔

فون پر ہونے والی اس گفتگو کی آڈیو ٹیپ گزشتہ روز پہلی بار انٹر نیٹ پر ''اپ لوڈ'' ہوئی اور حکومت مخالف افراد نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ٹیپ کی گئی فون کال میں سابق وزیر ذراعت ظفر کگلیان آذربائیجانی‎ کاروباری شخص رضا ضراب سے شکایت کے انداز میں کہہ رہے ہیں کہ انہیں ''وعدے کے مطابق کمیشن' کی دس ملین یورو مالیت کی خطیر رقم ابھی تک ادا نہیں کی گئی ہے۔''

جوابا رضا ضراب نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ وزیر موصوف کو کمیشن کی یہ رقم ابھی تک نہیں پہنچی ہے، جو کہ ان کی کمپنی کی طرف سے بھجوائی جا چکی ہے۔ رضا ضراب نے جوابا کہا ''ایسا محض غلطی کی وجہ سے ہوا ہو گا۔''

واضح رہے ظفر کگلیان سمیت چار ترک وزراء کو کابینہ سے الگ ہونا پڑا تھا کہ جب پچھلے سال دسمبر میں پولیس نے کرپشن کے الزامات کے تحت ریڈ کیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ کرپشن کے الزام میں وزیر ذراعت کے بیٹے سمیت متعدد اعلی شخصیات ملوث ہیں۔ ان میں سے ایک رضا ضراب بھی تھے تاہم دوسری کئی شخصیات کے ساتھ انہیں پچھلے ہفتے رہا کر دیا گیا ہے۔

وزیر ذراعت کے بیٹے پر الزام تھا کہ اس نے رشوت لینے اور دینے والوں کے درمیان رابطہ کار کے طور پر کام کیا تھا۔ اس آڈیو ٹیپ کے منظر عام پر آنے سے پہلے وزیر اعظم طیب ایردوآن کی ٹیپس بھی سامنے لائی جا چکی ہیں، جن میں مبینہ رشوت کی رقوم کا ذکر ہے۔