.

حوثی جنگجوؤں کے حملے میں دو یمنی فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا کے نزدیک ایک آرمی بیس پر حوثی شیعہ جنگجوؤں کے حملے میں دو فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

یمن کے ایک فوجی ذریعے کے مطابق جمعرات کو جوابی کارروائی میں چار حوثی باغی زخمی ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ حوثی باغیوں اور حکومت کے حامی سنی قبائل کے درمیان اکتوبر سے صنعا سے شمال میں واقع صوبے صعدہ اور دوسرے دوردراز شمالی پہاڑی علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں اور حوثی باغی صنعا کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔

صنعا اور صعدہ کے درمیان واقع علاقے میں حوثیوں کے ہم فرقہ زیدی اہل تشیع کی اکثریت آباد ہے اور ان کی اس چڑھائی کا بڑا مقصد خودمختاری کے حصول کے لیے اپنی تحریک کو آگے بڑھانا ہے۔یمنی حکومت نے اسی ہفتے حوثی باغیوں اور سنی مسلم قبائل کے درمیان جھڑپوں کے بعد ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں فوج تعینات کی ہے۔ان جھڑپوں میں چالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ثالث کار اب دونوں متحارب دھڑوں کو صنعا کے نزدیک واقع ان کے زیر قبضہ علاقوں سے پیچھے ہٹانے اور ان کی جگہ فوج کو تعینات کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن انھیں اس میں کوئی کامیابی نہیں ملی۔

حوثی باغی یمن کے شمالی صوبوں صعدہ اور عمران میں خودمختاری کے لیے ہتھیار بند ہیں اور ان کی یمنی فورسز اور مقامی اہل سنت قبائل دونوں سے بھی لڑائی ہورہی ہے۔حوثی باغیوں کو حکومت نواز زیدی قبائل کے علاوہ راسخ العقیدہ اہل سنت کی جانب سے سخت مزاحمت درپیش ہے۔اہل سنت نے اہل تشیع کے اثرورسوخ کو کم کرنے کے لیے ملک کے شمالی علاقوں میں اپنے متعدد مدارس قائم کیے ہیں اور ان دونوں مذہبی گروہوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں متعدد مرتبہ خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔

فریقین کے درمیان 30 اکتوبر کو اس وقت لڑائی شروع ہوئی تھی جب حوثی باغیوں نے سلفیوں پر صوبہ صعدہ کے شہر دماج میں اپنے ایک مدرسے میں ہزاروں غیر ملکیوں کو بھرتی کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ان لوگوں کو حوثیوں پر حملے کے لیے یہاں لایا گیا ہےیمنی صوبے صعدہ کی سرحد سعودی عرب کے ساتھ ملتی ہے۔حوثی باغیوں نے گذشتہ برسوں سے یمن کی مرکزی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے۔