.

چین، فلسطینی تنازعہ طے کرانے میں کردار ادا کرے: سعودی عرب

شہزادہ سلمان کا چینی صدر سے دوطرفہ تعلقات، علاقائی اورعالمی امور پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ دیرینہ فلسطینی تنازعے اور شام میں جاری بحران کو حل کرانے میں کردار ادا کرے۔

شہزادہ سلمان نے جمعرات کو بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں چینی صدر ژی جین پنگ سے ملاقات کی ہے اور ان سے دوطرفہ تعلقات اور اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق شہزادہ سلمان نے چینی صدر سے ملاقات میں کہا کہ ''وہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تزویراتی تعلقات کے فروغ کے لیے یہ دورہ کررہے ہیں اور اس کا بڑا مقصد سیاسی ،اقتصادی ،تجارتی ،صنعتی ،سرمایہ کاری ،توانائی اور سکیورٹی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب چین کے ساتھ اچھائی اور نیک نیتی کے اصولوں کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتا ہے تاکہ اس سے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل اور تنازعات کو طے کرنے میں مدد ملے کیونکہ ان کے بہ قول یہ تمام مسائل اور تنازعات اقوام متحدہ کی جانب سے اپنے ہی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرانے،دُہرے معیارات اور تمام ممالک کے درمیان ترقی کے عمل میں خلیج کا نتیجہ ہیں''۔

سعودی ولی عہد نے فلسطینی کاز کے حوالے سے چین کے مثبت موقف کا تذکرہ کرتے ہوئے بیجنگ پر زوردیا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے اس دیرینہ تنازعے کو طے کرنے کے لیے زیادہ نمایاں اور موثر کردار ادا کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''چین بین الاقوامی قراردادوں اور عرب امن اقدام کے مطابق مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن اور سلامتی کے لیے زیادہ بڑا کردار ادا کرے تاکہ فلسطینی اور عرب علاقوں پر اسرائیلی قبضہ ختم ہو اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو''۔

شہزادہ سلمان نے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے بھی چین سے زیادہ کردار ادا کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ وہ 2012ء کے جنیوا اعلامیے کے مطابق شام میں عبوری حکومت کے قیام اور خانہ جنگی سے متاثرہ شامی عوام تک بین الاقوامی پہنچانے کے لیے اسد رجیم پر دباؤ ڈالے۔

سعودی ولی عہد چین کے چارروزہ دورے پر بدھ کو بیجنگ پہنچے تھے۔ان کے اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔وہ چینی وزیراعظم لی کی چیانگ اور وزیردفاع جنرل چانگ وان کوان سے بھی ملاقات کریں گے اور ان سے دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔