سعودی عرب:گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے نئے نظام کا نفاذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی وزارت برائے سماجی امور نے گھریلو تشدد کے خاتمے اور بچوں سے بہتر سلوک سے متعلق قانون پر عمل درآمد کا آغاز کردیا ہے۔

وزارت کے سوشل پروٹیکشن یونٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی سربراہ اور سماجی محققہ نسرین ابو طہٰ نے بتایا ہے کہ وزارتی کونسل کے منظور کردہ نئے نظام پر دوہفتے کے اندر عمل درآمد کا آغاز کردیا جائے گا۔

سعودی عرب میں نافذالعمل نئے قانون کے تحت گھریلو تشدد میں ملوث افراد کو ایک ماہ سے ایک سال تک قید اور پانچ ہزار سے پچاس ہزار ریال تک جرمانے کی سزا سنائی جاسکے گی۔

سعودی حکومت کے مختلف ادارے وزارت سماجی امور سے مل کر اس نظام کا نفاذ کریں گے۔ان میں انسانی حقوق کمیشن،وزارت صحت،وزارت تعلیم اور پولیس شامل ہیں۔نسرین ابو طہٰ نے بتایا کہ اس سسٹم کے تحت متاثرہ افراد کی کونسلنگ کی جائے گی اور گھریلو تشدد اور ناروا سلوک کے حوالے سے عوامی آگاہی کی مہم بھی چلائی جائے گی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس سسٹم کے تحت گھریلو تشدد ،جسمانی اور جنسی ناروا سلوک ،جبری عصمت ریزی اور خواتین کو کام کی اجازت نہ دینے جیسے ایشوز سے نمٹا جائَے گا۔نَئے سسٹم کے تحت اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ سکیورٹی حکام گھریلو تشدد کے کیسوں سے خود نمٹیں اور خواتین سے متعلق ایشوز کو ان کے مرد سرپرست کو طلب کرنے کے بجائے ہی طے کریں۔

نئے سسٹم کے تحت افراد اور متعلقہ ادارے ناروا سلوک اور گھریلو تشدد کے کسی بھِی واقعہ کے بارے میں حکام کومطلع کرنے کے ذمے دار ہوں گے۔البتہ پولیس کو اطلاع دینے والے شخص کی شناخت کو پوشیدہ رکھا جائے گا۔نئے سسٹم کے تحت بچوں ،خواتین اور معذور افراد کو تحفظ مہیا کیا جائَے گا۔شدید متاثرہ افراد کو چالیس دن سے تین ماہ تک اقامت کی سہولت بھی مہیا کی جائے گی۔

سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن نے سال کے آغاز میں بتایا تھا کہ خواتین اور بچوں پر تشدد کے کیسوں کی تعداد میں دُگنا تک اضافہ ہوگیا ہے۔کمیشن کو گذشتہ سال گھریلو تشدد سے متعلق 576 شکایات موصول ہوئی تھیں جبکہ 2012ء میں 292 کیس رپورٹ ہوئے تھے۔

اس تعداد میں وہ کیس شامل نہیں ہیں جو دوسرے اداروں کو رپورٹ کیے گئے تھے۔کمیشن کے علاوہ نیشنل ہیومن رائٹس سوسائٹی اور وزارت سماجی بہبود ،اسپتالوں میں قائم تحفظ دفاتر،تعلیمی اداروں اور پولیس کو رپورٹ کیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں